Balochistan Urdu News



World latest News

تھائی لینڈ: غار سے بچوں کو نکالنے میں مہینوں لگ سکتے ہیں


03/07/18   بی بی سی
تھائی لینڈ کی غاروں میں نو دن پہلے لاپتہ ہونے والے 12 بچوں اور اُن کے فٹبال کوچ کا سراغ مل گیا ہے وہ سب غار میں زندہ ہیں۔
لیکن تھائی لینڈ کی فوج کا کہنا ہے کہ انھیں باہر نکلنے کے لیے غوطہ خوری سیکھنا ہوگی یا پھر مہینوں سیلاب کے کم ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔
غوطہ خوروں نے ان لاپتہ افراد کا سراغ تھیم لوانگ کی غاروں میں سرچ آپریشن کے دوران لگایا۔
اس وقت بچانے والوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان تک رسد پہنچانا ہے کیونکہ پانی اور گارا بڑھنے سے اُن تک رسائی مشکل ہو رہی ہے۔
فوج کا کہنا ہے کہ غاروں میں پھنسے افراد کے لیے کم از کم آئندہ چار ماہ تک زندہ رہنے کے لیے خوراک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
لاپتہ افراد کے خاندان ان کی تلاش کا سراغ ملنے پر بہت خوش ہیں۔
غاروں میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش میں تھائی نیوی کے خصوصی دستے حصہ لے رہے ہیں اور سرچ آپریشن میں دو برطانوی غوطہ خور بھی شامل ہیں جنھوں نے پیر کی شب انھیں تلاش کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
فیس بک پر شائع ہونے والے ایک ویڈیو میں ایک غوطہ خور انگریزی میں پوچھ رہا ہے کہ 'آپ کتنے افراد ہیں؟' جواب میں وہ کہتے ہیں کہ 'تیرہ'۔ یہ پوسٹ تھائی لینڈ کی بحریہ سیل کی سپیشل فورس نے ڈالی ہے۔
بظاہر گروپ نے پوچھا کہ کب انھیں باحفاظت نکالا جائے گا جس کے جواب میں ریسکیور کہتا ہے کہ آج نہیں۔
غار میں پھنسے ایک لڑکے نے کہا کہ 'انھیں بتاؤ کے ہم بھوکے ہیں۔'
غار میں پھنسے ان افراد کی ایک ڈرامائی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں تھائی لینڈ کے مقامی فٹبال کلب کی ٹیم زیر سمندر غاروں کے جال میں پھنسی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ لڑکے غار کے ایک خشک حصے میں دبکے ہوئے بیٹھے ہیں اور ان کے اردگرد پانی ہے۔ اس مقام پر وہ نو دن سے موجود ہیں۔ غار میں موجود یہ افراد خوراک اور اپنے آپ کو باہر نکالنے کا کہہ رہے ہیں۔
اس ویڈیو کو بنانے والا غوطہ خور لڑکوں سے کہہ رہے ہیں کہ 'وہ پریشان نہ ہوں، بہت سے افراد آ رہے ہیں۔'
ریسکیو ٹیم اس بات فیصلہ کر رہی ہے کہ آیا غار میں پھنسے افراد کو فوری نکالا جائے یا پھر پہلے غار سے پانی نکالا جائے اور کمزور اور لاغر افراد کو تھوڑا توانا ہونے دیا جائے۔
غار میں پھنسے ان لڑکوں کی عمر 11 سے 16 سال ہے اور وہ 23 جون سے لاپتہ تھے۔ یہ سب اس وقت لاپتہ ہوئے جب وہ اپنے کوچ کے ہمراہ ایک تفریحی دورے پر گئے۔
بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ غار کے دھانے پر کافی گہما گہمی ہے اور غار سے پانی نکالنے اور غوطہ خوروں کے سلینڈر بھرنے کے لیے جنریٹر نصب ہیں۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکام کو اب اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ پھنسے ہوئے افراد کو کیسے نکالا جائے۔ حکام کی سب سے پہلی ترجیح پھنسے ہوئے افراد کو خوراک اور طبی امداد فراہم کرنا ہے تاکہ اُن کی طاقت بحال ہو سکے۔

Back





World Latest News Updates, Balochistan News, Get the latest World News: international news, features and analysis from Balochistan, the Asia-Pacific, Europe, Latin America, the Middle East, South Asia, and the United States and Canada.