Balochistan Urdu News



World latest News

پاکستان: نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 9.1 فیصد تک پہنچ گئی


03/05/18   DawnNews:
اسلام آباد: نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں سال 2015 میں نوجوان میں بیروزگاری کی شرح میں 9.1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 2007 میں یہ شرح 6.5 فیصد تھی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی اور ترقی احسن اقبال نے رپورٹ کی تقریب رونمائی کے موقع پر کہا کہ ملک کی کل افرادی قوت میں 41.6 فیصد نوجوان ہیں، جن کی عمر 15 سے 29 برس کے درمیان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2015 میں نوجوانوں کی بیروزگاری کی شرح 9.1 فیصد رہی جو اب بھی 2004 کے مقابلے میں کم ہے۔
نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ کی رپورٹ ’ پاکستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بے نقاب کرنا‘ میں کہا گیا کہ مزدوروں کے عالمی ادارے نے 15 سے 24 سال کے عمر کے نوجوان میں بیروزگاری کی شرح 10.8 فیصد بتائی۔
رپورٹ میں ملک میں انسانی ترقی کو درپیش چیلنجز اور نوجوانوں کی پریشانیوں پر توجہ دی گئی ہے اور اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ کس طریقے سے انسانی ترقی کے نتائج کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
اس رپورٹ میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے 3 اہم چیزوں پر توجہ دی گئی ہے، جن میں اعلیٰ تعلیم، منافع بخش روزگار اور معقول مشغولیت شامل ہیں۔
نیشنل ہیومین ڈویلپمنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں اس وقت تاریخ کی سب سے بڑی نوجوان نسل موجود ہے اور اس کی آبادی کا 64 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر کا ہے جبکہ 29 فیصد نوجوان 15 سے 29 برس کے درمیان ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ نوجوانوں کی تعداد رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے جبکہ جنوبی ایشیاء میں افغانستان کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
تحقیق، ترقی کی کمی اور معیار کے حوالے سے بات کی جائے تو رپورٹ کا کہنا تھا کہ ’ پاکستان کی جی ڈی پی میں ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے لیے صرف 0.29 فیصد رکھے گئے جو دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم ہے۔
اس کے علاوہ ملک کی وسائل سے محروم جامعات اور غریب اسٹاف اس طرح کا ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہے جہاں ریسرچ کلچر کو فروغ دیا جاسکے۔
تاہم ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے اقدامات کے بعد تحقیقی مطبوعات کی تعداد میں اضافہ ہوا اور 2003 سے 2009 کے درمیان ڈاکٹروں کے مقالہ جات 3 ہزار سے زائد رہے جبکہ 1947 سے 2002 تک یہ تعداد 3300 تھی، تاہم ہمارے یہاں معیار کے بجائے مقدار پر توجہ دی گئی، جس کی وجہ سے کوئی تحقیقات بین الاقوامی سطح کا مقابلہ نہیں کرسکی۔
دوسری جانب تحقیقی کلچر میں کمی کے باعث ہائر لیول پروگرام میں طلباء کی تعداد میں کافی حد تک کمی ہوئی اور ملک بھر میں صرف 12 ہزار 400 طلباء نے ایم ایس/ ایم فل میں داخلہ کیا جبکہ پی ایچ ڈی پروگرام میں یہ تعداد 14 ہزار 370 رہی۔
اس کے علاوہ پاکستان میں پینٹنٹ اپیلیکیشن کی درخواستوں میں پاکستان بہت پیچھے رہا اور 2013 میں صرف 151 درخواستیں دائر کی جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت نے 10 ہزار 670 اور ایران نے 11 ہزار 300 درخواستیں دی۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) اور شمالی خیبرپختونخوا کے تمام حصوں میں یوتھ ڈویلپمنٹ انڈیکس ( وائی ڈی آئی) سب سے کم رہا۔
اس کے علاوہ دیگر ریجنز کی بات کی تو 2015 میں اسلام آباد کے لیے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس 0.875 فیصد رہا، آزاد کمشیر میں یہ حصہ 0.734 فیصد جبکہ سب سے کم فاٹا میں 0.216 فیصد رہا۔
صوبوں کی بات کی جائے تو ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس سب سے کم بلوچستان میں 0.421 فیصد، پنجاب میں 0732 فیصد رہا جبکہ سندھ اور خیبرپختونخوا میں یہ ترقی مناسب رہی۔
عالمی یوتھ ڈویلمپنٹ انڈیکس کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیاء میں تمام ممالک میں افغانستان تعلیم کے معیار میں پاکستان سے بہتر رہا اور اس کی یوتھ ڈویلپمنٹ انڈیکس کی درجہ بندی بھی بہتر رہی.

Back





World Latest News Updates, Balochistan News, Get the latest World News: international news, features and analysis from Balochistan, the Asia-Pacific, Europe, Latin America, the Middle East, South Asia, and the United States and Canada.