Shaigle.com

Rebirth urdu article




Rebirth urdu article
دوسرا جنم

جس وقت اُس کا روح اس کی جان سے نکل گیا تو اس کا جسم خشک ہو گیااُس کے ہاتھ، پاؤں ،آنکھیں،بدن غر ضیکہ جسم کا ہر حصّہ کام کرنا چھوڑدیا۔ اور وہ زمین پر گر پڑا ۔کچھ لوگ اُس کی طرف بڑے اور اُ س کا ہاتھ تھام کر اُس کی نبض کو چیک کرنے لگے ۔مگر اُس کا نبض بھی کام کرنا چھوڑدیا تھا۔ لوگ اُس کو مردہ قرار دے کر اُس کی باڈی کو اُ س کے گھر پہنچادیئے ۔گھر والوں کو جب خبر ملی تو وہ بہت پریشان ہو گئے۔عورتیں آہ و زاری میں مصروف ہو گئے۔مرد حضرات اُس کو دفنانیں کے لئے اقدام کرنے لگے ۔شہر سے 10 میٹر کا سفید کپڑا خرید لئے ۔مولوی صاحب کو بلایا گیا ۔مولوی صاحب اور کچھ دوسرے لوگ اُس کے کپڑے نکال کر اُسے ایک تختہ پر لٹا دیئے۔طریقہ کار کے مطابق اُسے غسل دیا گیا۔ سفید کپڑے کو اُس پر لپیٹ دیا گیا ۔بعد میں ایک چار پائی پر اُسے لٹا دیا گیا۔کچھ لوگ قبرستان گئے اور اُس کے لئے قبر کھودنا شروع کر دیے۔
اب وہ چار پائی پر پڑا ہوا تھا ۔اُس کے عزیز و اقارب اُس کی آخری دیدار کر رہے تھے اس دوران مولوی صاحب مسجد سے اُس کا نام لے کر اعلان کیا ۔اور کہا کہ نماز جنازہ میں شرکت کر کے ثواب کماؤ۔لوگ ثواب کمانے کی خاطراُس کے گھر آنا شروع ہوئے تھوڑی دیر بعد مولوی صاحب نے کہا اگر عزیزواقارب نے دیدار ختم کر لی ہے میت تیار ہے چلو اُسے قبرستان لے چلیں تا کہ اُسے جلد از جلد دفن کر دیا جائے ۔چار آدمی چارپائی کو اُوپر اُٹھاکر اپنے کندھوں پر رکھ کر قبرستا ن کی طرف روانہ ہو گئے اور دوسرے لوگ اُن کے پیچھے پیچھے جانے لگے۔ لوگ بہت تیزی سے قبرستان کی طرف قدم اُٹھا رہے تھے ۔راستے میں دوسرے لوگ چارپائی کو کندھا دے کر مدد کر رہے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد نماز جنازہ کی جگہ پر چارپائی رکھ دیا گیا۔لوگ پانچ صف (لائن) بنا کر مولوی صاحب آگے کھڑا ہو کر اور میّت کو چارپائی کے ساتھ سب سے آگے رکھ دیا گیا ۔دو رکعت نماز جنازہ کے پڑھنے کے بعد پھر سے چار آدمی چار پائی کو اُوپر اُٹھا کر کندھوں پر رکھ کر قبرستان کی طرف روانہ ہوئے لوگ بہت جلدی میں تھے اور ہر ایک یہی چارہا تھا ۔ جلدازجلد اُسے قبرستان میں دفن کیا جائے ۔تھوڑی دیر کے بعد لوگ قبرستان پہنچ گئے عین اسی وقت اس کا قبر بھی تیار تھا ۔میّت کو چارپائی سے اتارکر لحد میں رکھ دیئے اور اُس کا منہ قبلہ کی طرف کر دیا گیا۔بعد میں لحد کے منہ کو پتھروں سے بند کر کے قبر کو مٹی سے بھرنا شروع ہو گئے ۔قبر کو مٹی سے بھردینے کے بعد اُس پر کچھ پتھر رکھ دیے اور دولمبے پتھر ایک سرائے کی طرف اور دوسرا پاؤں کی طرف زمین پر گاڑدیے اور دونوں پتھروں کو ایک سفید کپڑے کے لمبے ٹکڑے سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر باندھ لیے بعد میں لوگ تھوڑا پیچھے ہٹے ۔ پیچھے ہٹنے کے بعد مولوی صاحب نے اُس کے لئے دعاِ مغفرت کی دعا مانگی۔اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگ بھی دعامانگ رہے تھے دُعا ختم ہونے کے بعد اُسے قبر میں چھوڑ کر لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو گئے۔
وہ یہاں لحد میں پڑا ہوا تھا ۔لحد اتنا تنگ تھا کہ وہ اپنے کو ہلابھی نہیں سکتا تھا۔قبر میں سوراخ نہ ہونے کی وجہ سے قبر بہت اندھیرا تھا ۔اب وہ سمجھ گیا کہ اُس کا آخری منزل یہی تھا ۔اور وہ قیامت کا انتظار کرنے لگاوقت تو گزر تے جاتے ہیں کچھ وقت کے بعد قبر کے اندر ایک طرف سے ایک کھڑکی کھل گیا ۔کھڑکی کے باہر دوفرشتے کھڑے تھے ۔اور وہ دونوں ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے ۔ ایک نے کہایہ آدمی دوزخی ہے چلو اسے دوزخ لے چلتے ہیں ۔جب اُس نے اُن فرشتوں کی باتیں سُنیں تواُس پر ایک خوف طاری ہو گیا اور بھاگنے کے چکر میں دوسری طرف موڑنا چا ہا مگر لحد کی تنگی اور قبر کی اندھیرے ہونے کی وجہ سے وہ کچھ نہ کر سکا ۔ وہ سوچنے لگا کہ اب وہ دوزخ کی عذاب سے نہیں بچے گا اُن فرشتوں میں سے ایک آگے بڑھا اور اُس سے کہا چلو تمھیں دوزخ لے جانا ہے اُس نے کہا میں نے کوئی گناہ نہیں کیا ۔ آپ مجھے دوزخ کیوں لے جانا چاہتے ہو۔ فرشتے نے کہا جب بھی قبر کے اس طرف سے دروازہ کھلتا ہے تو ہم بنا پوچھے لوگوں کو دوزخ لے جاتے ہے۔اور زیادہ باتیں مت کرو چلو ہمارے ساتھ وقت بہت کم ہے۔
اسی دوران قبر کی دوسری طرف سے ایک اور دروازہ کھل گیا تو وہاں بھی دو فرشتے کھڑے ہوئے تھے ۔ اُن فرشتوں میں سے ایک نے کہا یہ آدمی جنتی ہے ۔چلو اسے جنت لے چلتے ہیں۔ اور اُن میں سے ایک آگے بڑ کر اُس سے کہا چلو تمھیں جنت لے چلنا ہے ۔پہلے والا فرشتے جو ساتھ کھڑے تھے ایک نے کہا کہ یہ آدمی دوزخی ہے ۔ اوربعد میں آنے والے نے کہا نہیں یہ جنتی ہے ۔یہاں ان دونوں کے درمیان تکرار ہو گیا ۔تو اُس آدمی نے فرشتوں سے کہا کہ قیامت کب آئے گا ۔ ایک فرشتے نے کہا جس دن تمھیں قبر میں لایا گیا تھا ۔اُس دن سے تمھارے لئے قیامت شروع ہو اتھا۔ اور تمھارے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے۔بعد میں اُن فرشتوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس آدمی کو ایک بڑا فرشتہ جو ان کا جج تھا اُس کے پاس لے گئے ۔ایک فرشتے نے جج سے کہاکہ یہ دوزخی ہے مجھے اسے دوزخ لے جانا ہے ،دوسرے نے کہا نہیں یہ جنتی ہے اسے جنت لے جانا ہے ۔جج نے کہا ۔اُس کا اعمال نامہ دکھاؤ تاکہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ اس کے اعمال نامہ میں ہے کیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد اُس کا اعمال نامہ ایک دوسرے فرشتہ نے لایا جب اُ س کا اعمال نامہ جج کو دکھادیا۔اور جج نے غور سے اعما ل نامہ دیکھاتو اس کا اعمال نامہ عجیب وغریب تھا کہ اُس نے اپنے سارے زندگی میں ایک گناہ بھی نہیں کیا تھا اور نہ ایک ثواب کمایا تھا ۔زندگی میں وہ ایک نیوٹرل آدمی رہا تھا ۔جج نے کہا کہ یہ آدمی نہ جنتی ہے اور نہ دوزخی۔کیونکہ جنت جانے کے لئے کم از کم ایک ثواب کی ضرورت ہوتا ہے اور دوزخ جانے کے لئے کم از کم ایک گناہ کی ۔ اس کا تو اعمال نامہ ہی خالی ہے۔آخر کار جج نے فیصلہ کیا کہ اس کو واپس زمین پر بیھج دیا جائے
ایک فرشتے نے ایک طرف سے اس کا ایک ہاتھ پکڑلیا اور دوسرے نے دوسرے طرف سے۔ اُسے واپس زمین پر پھینک دیا گیا ۔اور اُس سے کہا کہ اگرجنت جانا چاہتے ہو تو کم از کم ایک ثواب کماؤ۔اگر دوزخ جانا چاہتے ہو تو ایک گناہ کرو۔ زمین پر اُسے دوسرا جنم مل گیا۔جب وہ اپنی جگہ سے اُٹھا ،ادھر اُدھر دیکھا ۔تو ایسا لگا کہ یہ کوئی دوسرا علاقہ تھا ۔نئے قسم کے لوگ ،نئے قسم کے عمارات ،نئے قسم کی گاڑیاں اور مختلف قسم کی نئے نئے مشینیں تھیں ۔وہ بہت حیران ہو گیا کہ کیا کر ے کہا ں جائے اپنے گھر کو کیسے ڈھونڈے ۔ آخر کار سوچ لیا چلو کسی سے پوچھ لے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ کونسا جگہ ہے اس علاقے میں درخت بہت زیادہ تھے ہر طرف سر سبز دکھائی دے رہاتھا ۔ایک طرف سے وہ ڈر رہا تھا کیونکہ اُس کے جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا اور دوسری طرف سے وہ کسی آدمی کو ڈھونڈ رہا تھا تھوڑی دیر کے بعد اُسے ایک عورت نظر آیا وہ چپ چپ کر ایک درخت کے پیچھے کھڑا ہو کر عورت کو آواز لگا دی Hello عورت یہ آواز سن کر پریشان ہو گیا ۔اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگی ۔تھوڑی دیر کے بعد اُس نے ایک سیٹی بجائی عورت سیٹی کی آواز سنی اور پریشان ہو گیا غور سے اِدھر اُددھر دیکھنے لگی۔وہ یہی سمجھا کہ عورت اُسے ڈھونڈ رہاہے ۔چلو اپنا چہرہ اُسے دکھا دو اُس نے درخت کے ایک طرف سے اپنا چہرہ نکالاجب عورت کی نظریں اُس پر پڑیں۔تو عورت چلانے لگی بھوت ،بھوت اور بے ہوش ہو کر گر پڑی ۔وہ اُدھر سے بھاگ نکلا ۔ کچھ لوگ عورت کے قریب آئے اُس پر تھوڑا پانی پھینک دیے۔ تھوڑی دیر کے بعد جب عورت ہوش میں آئی تو پھر چلّانے لگی بھوت ، بھوت۔ لوگوں نے پوچھا کیا ہوایہ کیا چیز تم نے دیکھی تھی۔عورت نے کہا کہ اُس نے ایک بھوت دیکھی ۔وہ درخت کے پیچھے کھڑا سٹی بجا رہا تھا ۔لوگ اِدھر اُدھراُسے تلاش کر نے لگے ۔مگر کسی کو کچھ نظر نہیں آیا ۔ کیونکہ وہ یہاں سے بھاگ نکال تھا اب وہ پریشان تھا کہ کیا کرے۔ کیونکہ وہ اپنا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اور جسم کو ڈھانپنے کے لیے کپڑوں کی ضرورت تھی۔
کچھ دنوں کے بعد پھرسے اس نے کوشش کی کہ اس بار کسی مرد آدمی سے پوچھوں۔ کہ یہ کونسا علاقہ ہے وہ کسی درخت کے پیچھے اپنے کو چھپایا نزدیک ہی ایک آدمی جارہا تھا ۔اُس نے پھر ایک سیٹی بجائی ۔آدمی نے سوچا کہ یہاں کوئی ہے ۔تو وہ اُس طرف دیکھنے لگا اُس نے اپنا سر درخت کی ایک طرف سے نکالا تاکہ وہ آدمی اُسے دیکھ لے۔جب آدمی کی نظریں اُس پر پڑی ۔ آدمی نے چلّایا بھوت ،بھوت اور بے ہوش ہو کر گِر پڑا۔وہ یہا ں سے بھی بھاگ گیا ۔جب آدمی ہو ش میں آیا۔تب لوگوں نے پوچھا کیا ہوا تو اُس ے کہا کہ اُس نے درخت کے پیچھے ایک بھوت دیکھاتھا ۔جو سیٹی بجارہاتھا جسے میں دیکھ کر مجھ پر خوف طاری ہو گیا اور میں بے ہوش ہو گیا ۔اب وہ پریشان گھوم رہا تھا ۔جو بھی اُسے دیکھتا چلّاتا۔ بھوت،بھوت اور بے ہوش ہو کر گِر پڑتا۔دوسرے جنم میں وہ ایک بھوت بن چکا تھا ۔نہ وہ کسی کو اپنے آپ کو دکھا سکتا تھا اور نہ کسی سے باتیں کر سکتا تھا۔ آج تک وہ کسی سے نہ باتیں کر سکتاہے اور نہ کسی کو اپنا چہرہ دکھا سکتا ہے ۔ جو بھی اسے دیکھتا ہے بے ہوش ہو کر گِر پڑتا ہے۔ وہ بیچارہ ایک بھوت بن کر گھوم رہاہے۔



(مصنف: شیکوف بلوچ)