"> New thinking urdu article

Shaigle.com

New thinking urdu article




New thinking urdu article
ایک نیا سوچ

نوجوانوں کے ذہن میں آج بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں ۔ حالات کی بڑی تیزی سے تبدیلی کو مد نظر رکھ کر سوچ و فکر زیادہ منظم
انداز میں پختہ ہورہاہے ۔
نوجوان نسل سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔
زندگی کاسامنا بہت سے چیلنجوں سے ہورہاہے ۔
مستقبل کاکچھ پتہ نہیں ۔
معاشی حالات کمزورسے کمزور تر ہوتے جارہے ہیں
تخلیقی صلاحیت کام نہیں کررہا۔
دانشور اپنے گھروں تک محدود ہو گئے ۔
اساتذہ کرام نوکر شاہی کے غم میں مبتلا ہیں ۔
طلباء کو تعلیم سے سروکار نہیں
والدین بچوں کی دو وقت کی روٹی کے لیئے سر گردان ہیں ۔
بچوں کی مستقبل سے اُن کو کوئی غرض نہیں ۔
ہمسایہ نئے ہمسایوں سے ڈر نے لگا ہے ۔
دوستی تو اپنی جگہ پر
مطلب کی دوستی بھی دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا ۔
خشک زمین بارش کی ایک ایک بوند کیلئے ترس رہا ہے ۔
اور بارش سمندر پر برس رہا ہے۔
مہمان پرندوں کیلئے ہماری سرزمین ایک دوزخ سے کم نہیں ۔
لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ کانام ونشان نہیں ۔
ہر ایک اپنے اعمال میں گرفتار و سر گردان ہے
دُعا وں کے اثرات ختم ہوگئے ۔
عبادات دکھاوے کیلئے باقی رہ گئے ۔
شیطان لوگوں سے جان چھڑانے کیلئے بے تاب ہے ۔
دنیا کی نظریں ہماری سرزمین کی طرف
اور
ہماری نظریں آسمان پہ لگے ہیں ۔
ماں کادل بیٹے پر اور بیٹے کاپہاڑ پر لگے ہیں ۔
دُنیا ہم سے ایک قدم آگے بڑھنے کی اُمید رکھتی ہے ۔
مگر ہمارے پاؤں میں آگے بڑھنے کی سکت نہیں ۔
مفاد پرستوں کے مفادات جنم لیتے جارہے ہیں ۔
پیٹ پرستوں کے پیٹ بڑے ہوتے جارہے ہیں ۔
ڈاکو دن دھاڑے ڈاکہ ڈال رہے ہیں ۔
ظالم اپنے ظلم کے نشان کوڈھونڈ رہے ہیں ۔
غریبوں میں غریبی کالاوا پک رہا ہے ۔
عوام دو وقت کے روٹی کیلئے پریشان ہیں
حکمران سیٹ کے نشے میں خمار نظر آرہے ہیں۔
مہمانوں کی مہمانی ختم ۔
میزبانوں کی میزبانی ختم ہوگئی ۔
شہروں میں بسوں اورٹرکوں کی ہارن کی وجہ سے کان کے پردے پٹ گئے ۔
دیہاتوں میں بندوقوں کے آواز کی گونج سے ننھے منھے بچوں کی نیند حرام ہوگئی ۔
کالج اور یورنیورسٹیاں پارکوں میں
سکو ل جیل خانوں میں تبدیل ہوگئے ۔
ایمان کا صرف نام ہی باقی رہ گیا ۔
ہم اسے شہروں میں ڈھونڈ رہے ہیں ۔
وہ کب کا بیاباں میں شفٹ ہو گیا ہے
اور اُ س کے نشانات دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے۔
انصاف کاترازو پیسوں کے ہاتھوں بِک گیا ۔
جج صاحبان کو گھنٹی بجانے کی ڈیوٹی سونپ دی گئی۔
وکیل صاحبان تری پیس پہننے تک محدود ہو گئے۔
غریبوں کی آواز زمین بوس ہو گئی۔
بلبل نے گانا گاناچھوڑ دیا ۔
لیلٰہ نے سنگار کرنی چھوڑدی ۔
مجنوں کی عاشقی مطلب تک محدود ہوگئی ۔
حقیقی عشق کا نام و نشان باقی نہیں رہا ۔
مجازی عشق کا بازار گرم ہوگیا۔
عاشقوں کی عاشقی موبائل تک محدود ہوگئی
انسانوں میں حیوانات جیسے اثرات پانے لگے ہیں ۔
جانور نئی حیوانوں سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں
لوگ عزت کوڈھونڈ رہے ہیں ۔
اور عزت جنگل وبیابا ن میں مزے سے سو رہا ہے ۔
آپ اخلاق کی بات کر رہے ہیں ۔
میں نے تو صرف اس کانام سنا ہے ۔
کہ
اخلاق و ادب کب کا دفن ہو گیا تھا
جس کی جگہ شاید جی جی اور سرسر نے لے لی ۔
پیار مرگیا
محبت ختم ہوگئی
اَنا کا بازار گرم ہوگیا۔
غیرت اَنا کاساتھی بن گیا ۔
نوجوانوں نے مستقبل سے منہ پھیر لئے
اساتذہ پڑھانے سے بیزار ہو گئے
طلباء نے کتابوں کی دوستی ترک کردی ۔
آغاز نہ ہونے کے سبب انجام بوڑھا ہوگیا ۔
پہلے مُلاکی دوڑ مسجد تک تھی
اب مُلا نے اپنی دوڑ پیسوں کے پیچھے لگادی ہے ۔
غلام غلامی کی زنجیر کو تھوڑ نے کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں ۔
آقا غلاموں کی حق کی آواز کو دبانے کی کوشش میں مصروف عمل ہے ۔
انگریز لوگ موٹاپے سے نجات کیلئے ڈائٹنگ اور ورزش پر زور دے رہے ہیں ۔
ہمارے سیٹ صاحبان شٹرڈاؤن ہڑتالوں کی وجہ سے آٹومیٹک پتلا ہوتے جارہے ہیں ۔
کارکن اپنے منزل کو لیڈر کے پیچھے ڈھونڈ رہے ہیں ۔
مگر لیڈروں نے آنکھوں پر کالی عینک لگا کر لینڈکروزروں میں پناہ لے رکھی ہیں ۔
لیڈر پیچھے کی طرف حکم دے رہے ہیں ۔
کارکن حکم کی نافرمانی کرکے آگے جانے کی کوشش کررہے ہیں
خانہ کعبہ سے بتوں کو نکال دیا گیا
ہم نے تصاویر کے ذریعے انھیں آویزاں کر دیئے
امریکہ نے مریخ تک رسائی حاصل کرلی ۔
ہم پُل صراط کو پار کرنے کی تدابیر سوچ رہے ہیں۔
شوہر نے گھر میں نہ بیٹھنے کی قسم کھائی ۔
اُدھر بیماریوں نے بیوی کے خون چوس لئے ۔
مثبت سوچ فقیر بن گیا ۔
منفی سوچوں نے دماغوں پرحکمرانی شروع کر دی ۔
اجتماعی سوچ کوتوہم جانتے بھی نہیں
ذاتی سوچوں سے ہم خود پریشان ہیں ۔
کیا اب بھی کچھ اور باقی رہ گیا ہے ؟
میرے سوالات کا ذرہ سوچ کر جواب دیجئے گاآپ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں یا کسی اور کو؟
نئی سوچ خلیل جبران کے اس قول میں پنہاں ہیں ۔
’’ تو اندھا ہے
میں گونگا اور بہرہ
تو
پھر آ !
اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دے
بہت ممکن ہے
ہم سے کوئی ایک دوسرے کو بچا لے ‘‘



(مصنف: شیکوف بلوچ)