Natasha
نتاشا نے کیا سوچا تھا کیا پایا

سکول سے فارغ ہونے کے بعد نتا شا نے سوچا کہ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیں جس کے لئے اُسے ایک ٹیسٹ پاس کرنا لازمی تھا نتا شا ایک ہونہار اور قابل لڑکی تھی ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد آسانی سے یونیور سٹی میں اُس کا داخلہ ہوگیا نتا شا کے والدین گاؤں میں رہتے تھے جس کی وجہ سے اُسے یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہنا پڑا نتاشا کو ہاسٹل میں ایک کمرہ الاٹ کیا گیا اُس کمرے میں دو اور لڑکیا ں سویتا اور تانیا بھی رہتے تھیں یونیورسٹی ہفتہ اور اتور کے دن بند ہوتاتھا جس کی وجہ سے نتاشا دو دن گا ؤں اپنے والدین کے ہاں چلی جاتی اور سوموار کوایک ہفتے کے خوراک کا بندوبست کر کے کچھ سامان بھی گھر سے لاتی تھیں اس یونیورسٹی میں ملکی سٹوڈینٹس کے علاوہ غیر ملکی سٹوڈینٹس بھی زیر تعلیم تھے نتا شا پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے لئے ایک ساتھی کی تلاش میں بھی تھا اُس کی خواہش تھی کہ اُسے ایک اچھا بوائے فرینڈ ملے جس سے وہ پیار اور شادی کرے تاکہ مستقبل میں ایک اچھا زندگی بسر کر سکے نتا شا دو سال یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہا اُس کی تعرف بہت سے لڑکوں سے ہوئی مگر اُسے ا پنا ہم خیال لڑکا نہیں ملا جسے وہ پیار کرتی ۔
ایک دن نتاشا کی ملاقات یونیورسٹی میں ایک غیر ملکی ایشین لڑکے سے ہو ئی جس کا نام یونس تھا یہ لڑکا بھی دو سالوں سے اسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا جو سوشلسٹ سکالر شپ پر تعلیم حاصل کر رہا تھا نتا شا کو یہ لڑ کا بہت پسندآیا اور اُس نے یہی سمجھا کہ اُسے زندگی کا ساتھی مل گیا نتا شا ایک سال تک اس لڑکے سے ملتا رہا ایک سال کے بعد اُس لڑکے نے نتا شا کو دعوت دی کہ اُسے نتا شا سے پیار ہو گیا ہے اور وہ اُس سے شادی کرنا چاہتا ہے نتا شا کو بھی اُس لڑکے سے پیار ہو گئی تھی وہ بھی اُس سے شادی کرناچاہتی تھی مگر اُس نے دس دن کا مہلت لیا تاکہ وہ اپنے والدین سے مشورہ کر ے ۔
معمول کے مطابق نتا شا ہفتے کے دن اپنے والدین کے ہا ں گئی اور اپنے والدہ سے کہا ۔
نتاشا: مجھے ایک غیر ملکی سٹوڈنٹ سے پیا ر ہو گئی ہے اور میں اُس سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ماں نے کہا
ماں: دیکھو بیٹی تم بالغ ہو تمھیں اپنے لئے جیون ساتھی چننے کا پورا حق ہے مگر میں آپ کو مشورہ دیتی ہوں کہ اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہو تو اپنے ہی وطن اور اپنی ہی نسل کے لڑکے سے کرو تاکہ تمھا رے لئے کل کوئی مسئلہ پیدانہ ہو غیر ملکی اور پھر وہ بھی ایشین ۔ ہم لوگ گورے اور وہ کالے ہیں، ہم لوگ عیسائی اور وہ مسلمان ہیں اُن کا رہن سہن اور رسم و رواج سب ہمارے سے الگ ہیں اس لئے تمھار ااُس کے ساتھ رہنابہت مشکل ہے ۔
نتا شا کا والد بہت پہلے اُس کے والدہ کو چھوڑ کر دوسری لڑکی سے شادی کرچکا تھا اس لئے نتا شا کو اُس کی والدہ نے اکیلا ہی بڑا کیا تھا اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اُس کی اکلوتی بیٹی کسی غیر ملکی سے شادی کر کے ہمیشہ کے لئے چلی جائے ۔
مگر نتا شا اپنی بات پر ڈٹی رہی کہ اُسے پیار ہو گئی ہے اور وہ اس لڑکے سے ہی شادی کرے گی ماں کیا کر سکتی تھیاور نہ وہ نتا شا اور اُس کے پیا ر کے سامنے نہیں رُک سکتی تھی اور وہ بھی بڑی مدت کے بعد اُس کی بیٹی کو لڑکا ملا تھا اور وہ اُس سے پیار کرتی تھی ۔
آخر کار ماں نے اپنی آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے کہا ۔
ماں: دیکھئے بیٹی میرا دل تو نہیں مانتی کہ تم کسی غیر ملکی لڑکے سے شادی کر لو مگر زندگی تمھاری اپنی ہے پہلے اچھی طرح سوچ لو پھر شادی کر لو۔
نتا شا تو فیصلہ کر چکی تھی دس دن کے بعد نتا شا نے یونس سے کہا
نتاشا: میں تمھارے ساتھ شادی کرنے کے لئے تیار ہوں کیونکہ مجھے تم سے پیار ہو گئی ہے او ر اپنی پیار کی خاطر ہر چیز ٹکر انے کے لئے تیا ر ہوں ۔
نتا شا اور یونس نے شادی آ ل کو بُک کروایا ایک مہینہ شادی کی تیاری کی گئی نتا شا نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو دعوت دی اور یونس نے اپنے دوستوں کو دعوت پر مدعو کیا شادی کی ساری رات دعوت کھانے اور ناچ گانے میں گزرگیا ۔ اب نتا شا یونس کی بیوی بن چکی تھی کچھ دنوں کے بعد یونس نے نتا شا سے کہا
یونس: ہم لوگ مسلمان ہیں اس لئے ہمیں اپنے مذہب کے تحت نکاح پڑھوانا ہے ا س کے لئے مسجد جانا ہو گا اور مولوی صاحب ہمارے نکاح پڑے گا نتا شا راضی ہو گیا وہ دونوں پیش امام کے پاس گئے یونس نے مولوی صاحب سے کہا
یونس : ہم دونوں میاں بیوی ہیں اور اب ہم چاہتے ہیں کہ اسلامی حوالے سے بھی ہمارے نکاح ہو جائیمولوی صاحب نے کہا
مولوی : ٹھیک ہے میں پڑھتا ہوں
مولوی صاحب نے نکاح پڑھا بعد میں وہ ایک نکاح نامے پر دونوں کے دستخط لے کر ایک کاپی یونس کے حوالے کر دیا ۔ ایک سال کے بعد نتاشا کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوگیا تو نتاشا کو یونیورسٹی سے ایک سال کے لئے چھٹی مل گیا دوسا ل کے بعد یونس نے تعلیم مکمل کر لیا اور ڈگری حاصل کرنے کے بعد یونس نے نتا شا سے کہا
یونس : میرا تعلیم مکمل ہو گیا ہے تمھیں پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں اب چلو میرے وطن چلتے ہیں وہاں ہمارے پاس خدا کا دیا ہوا ہر چیز موجود ہے۔
نتاشا نے کہا
نتاشا: ٹھیک ہے میں اپنی والدہ سے اجازت لے کر آؤں گی ۔
نتاشا گاؤں چلی گئی اور اپنی والدہ سے اجازت مانگی کہ وہ اس ملک کو چھوڑ کر اپنے شوہر کے ساتھ جارہی ہے اُس کی والدہ نے بہت روہی اور کہا
ماں: بیٹی تمھارے سوا میرا اس دُنیا میں اور؂ کوئی بھی نہیں مجھے اکیلے چھوڑ کر مت جاؤ میں تمھارے بنا زندہ نہیں رہ سکوں گی ۔نتا شا نے کہا ۔
نتاشا: دیکھئے ماں میں یونس کی بیوی ہوں وہ جہاں جائے گی میں اُس کے ساتھ جاؤں گی ۔
ماں روتے ہوئے کہا
ماں: بیٹی اپنا خیال رکھنا ۔
کچھ دنوں کے بعدیونس نتاشا اور اپنے بیٹے کو لے کر وطن پہنچا یونس کے ماں باپ بہن بھائی بہت خوش تھے کہ یونس نے نہ صرف ڈگری لے کر آیا ہے بلکہ ساتھ میں بیوی اور بیٹا بھی لایا ہے کچھ وقت مہمانوں کی خاطر تواضع تو بہت زیادہ کی گئی نتاشا تو بہت خوش تھی کہ اُس کے سُسرال والے بہت اچھے لوگ ہیں ۔
وقت گزرتا گیا حالات بدلتے رہے کچھ وقت گزرنے کے بعد یونس نوکری کی تلاش میں گھر سے نکلا اور سب سے پہلے اُسے اپنی ڈگری انجینئرنگ کونسل میں رجسٹر کراناتھا۔انجینئرنگ کونسل والوں نے 6000 روپے فیس لے کر ایک رُکہ (رسید) اسے دے دیے اور کہا کہ انکوائری کر نے کے بعد اُسے جواب دیاجائیگا ۔ایک مہینہ گزرنے کے بعد انجینئرنگ کونسل کی جانب سے یونس کو ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ جس یونورسٹی سے آپ نے ڈگری حاصل کی ہے وہ ہمارے ہاں رجسٹر نہیں ہے لہٰذا تمھارا ڈگری رجسٹر نہیں ہو سکتا ۔اسی خط کے ساتھ یونس کے سارے خواب بکھر گئے وہ کیا سوچ کر اپنے وطن آیا تھا اور کیا صلہ اُسے مل گیا وہ بہت پریشان ہوگیا پہلے وہ یہی سوچ رہا تھا کہ وہ اپنے ملک آئے گا اُسے اچھا نوکری ملے گا اور اپنی قوم و ملک کی خدمت کرے گا اوروہ نتاشا کے ساتھ ایک اچھا زندگی بسر کرے گا ۔مگر حالات نے دوسرا رُخ موڑ لیا جس کے لئے یونس بالکل تیارنہ تھا بغیر رجسڑیشن کے یونس کا ڈگری ایک کاغذ کا ٹکڑا تھا اُس کی پانچ سال کی محنت کا پھل صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا بن چکا تھا اور وہ کسی بھی ملازمت کے لئے درخواست جمع نہیں کر سکتا تھا ۔یونس بہت پریشان ہوا۔
ایک دن نتاشا یونس سے پوچھا ۔
نتاشا: خیر ہے تم پریشان سی لگ رہے ہو مجھے بتاؤ ماجرہ کیاہے مگر یونس نتاشا کو نہیں بتا سکتا تھا کہ اُس کی ڈگری کو رجسٹریشن نہیں کیا جاتا بس وہ یہی کہتا تھا کہ آج نوکری ملے گا یا کل ملے گا سارا ٹھیک ہو جائے گا۔
ایک دن یونس کی ملاقات اُس کے اپنے ایک دوست سے ہوئی دوست نے کہا
دوست: خیر ہے پریشان سی لگ رہے ہو
یونس نے کہا
یونس: بس کیا بتا ؤں پانچ سال ملک سے باہر گیا تعلیم حاصل کیا اور اب انجینئرنگ کونسل والے کہتے ہیں کہ جس یوینورسٹی سے تم نے ڈگری حاصل کی ہے وہ رجسٹر نہیں ہیاس لیئے تمھارے ڈگری کو رجسٹرنہیں کیا جاسکتا۔ میرا سارا محنت ایک کاغذ کا ٹکڑا بن گیا ہے جو کچھ میں نے سوچا تھا وہ صرف ایک خواب تک محدود ہو گیا ہے اب میرے سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ کیا کروں کہاں جاؤں۔ اگرا کیلا ہوتا پھر بھی دوسرا شہر چلا جاتا اب بیوی اور بچے کو چھوڑ کر کیسے جاسکتا ہوں سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کیا کروں۔ دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے بہت پریشان ہون۔ دوست نے کہا
دوست: میں تمھارا کچھ مدد نہیں کر سکتا ہاں میرے پاس ایک چیز ہے جو پریشانی کو ختم کرسکتا ہے ۔دوست نے تھوڑا پاؤڈر نکالا اور کہا ان پاؤڈرزکو سونگ لو ۔
یونس نے کہا
یونس: یہ کیا چیز ہے ۔
دوست نے کہا ۔
دوست: یہ پریشانی دور کرنے والا پاؤڈر ہے۔
یونس پریشان تھا وہ اپنی پریشانی دور کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیا ر تھا ۔ گر اُس کو اس چیز کا علم نہیں تھا کہ اس پاؤڈر سے اُس کی ساری زندگی بدل جائے گی ۔خیر یونس نے پاؤڈر اُٹھا کر ناک کے قریب لے کر ایک طرف سے ناک بند کر کے سونگ لیا تھوڑی دیر کے بعد پھر سونگا اُس کے آنکھوں میں خمار آنے لگا اُس کی پریشانی بالکل ختم ہو گئی تھی اس کا سر چکر ا رہا تھا اُس کے سامنے چیزیں اُوپر نیچے ہورہے تھے ۔ دوست نے کہا
دوست: کیسا ہے مزاج ؟ یونس نے کہا
یونس: واﷲ ایسا نظارہ زندگی میں کبھی نہیں دیکھا اس پاؤڈر میں کیا کما ل ہے کہ چیزیں خودبخود اُوپر نیچے ہو تے رہتے ہیں ۔ کوئی چیز دائیں طرف جاتا ہے تو کوئی بائیں طرف۔ تھوڑی دیر کے بعد یونس اُٹھنے کی کوشش کی تو اُس کی ٹانگیں ساتھ جانے کے لئے تیا ر نہیں تھے ۔یونس نے کہا کیا بات ہے کہ آج ٹانگیں بھی ساتھ جانے کو تیار نہیں اس پاؤڈر میں ضرور کوئی جادو ہے جو اس طرح چیزوں کو اوپر نیچے کرتاہے۔یونس تھوڑا اور باتیں کرنے لگا بعد میں دوست نے کہا
دوست: اب میں جاؤں گا کل پھرملیں گے ۔
یونس نے کہا
یونس: ضرور ضرور کیوں نہیں۔
یونس گھر پہنچ کر زور سے آوا ز لگائی
یونس: نتا شا میرے لئے کھانا لگا دو مجھے بھوک لگ گئی ہے
نتاشا یونس کی آواز سُن کر سمجھ لیا کہ یونس کو ضرور کچھ ہو گیا ہے مگر اپنے کو کنٹرول کرتے ہوئے گھر میں جو کھا نا تیار تھا دستر خوان بچھاکر کھانا ر کھ لیا ۔یونس کھانا کھا کر سو گیا ۔
دوسرے دن یونس پھر دوست کے پاس چلا گیا اور دوست نے پھر پاؤڈر نکال کر یونس کو دیا آج یونس نے تھوڑا زیادہ مزہ لینے کی کوشش کی اور زیادہ خمار ہو گیا ۔اب یہ یونس کا عادت بن گیا کیونکہ یونس کو اپنے پریشانی ختم کرنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ۔ایک دن یونس دوست کے پاس گیا پاؤڈر مانگ لیا ۔دوست نے کہا
دوست: بھائی جان میرے پاس جتنے پاؤڈر تھے وہ سارا ختم ہو گئے ہیں اب خریدنا پڑے گا ۔یونس جس چیز کو اپنا سہارا سمجھتا رہا وہ اُس کے لئے ایک اور مصیبت بن گیا ۔اب یونس پیسہ کہاں سے پیدا کرے ایک تعلیم یافتہ شخص نہ بھیک مانگ سکتا تھا نہ چوری کر سکتا تھا اور نہ اب کام کرنے کے قابل رہا۔دوسری طرف سے نتا شا کا بیٹا بیمار ہو گیا نتا شا کے ساتھ اپنے بیٹے کے علاج کے لئے پیسے بھی نہیں تھے نتاشا اپنے بیٹے کو گورنمنٹ ہسپتال لے گیا ڈاکٹربچے کو دیکھ کر بغیر چیک اپ کے تین قسم کے گولیاں لکھ لیا ۔ نتاشا اپنے بیٹے کو لے کر واپس گھر آئی بیٹے کو دوائی پلائی مگربچے کا طبیعت ٹھیک نہیں ہوا۔ نتاشا نہ کسی کو جانتا تھا اور نہ کسی سے پیسے مانگ سکتا تھا کیونکہ وہ خود ایک غیر ملکی لڑکی تھی ۔
کچھ دنوں کے بعد نتاشاکا بیٹا صحیح معنی میں علاج نہ ہونے کی وجہ سے اس دنیا سے رحلت کر گیا ۔نتاشا بیٹے کی غم میں نڈھال تھا کہ خبر آئی ایک آدمی کی لاش کو شہر کی نالیوں سے نکال دیا گیا ہے تھوڑی دیر کے بعد معلوم ہوا کہ وہ یونس کی لاش تھی اور یونس کے لیے پریشانی سے چھٹکارا پانے کا آخری راستہ تھا ۔نتاشا تو اپنے بیٹے کی غم سے نڈھال تھا کہ اُس کے اُوپر ایک دوسرا مصیبت آگر ا ۔
’’یک نہ شُد دو‘‘
نتا شا ہر دن روتی رہتی تھی اوریونس کی ماں اُسے تسلی دیتی رہتی تھی ایک دن یونس کے ماں نے نتاشا سے کہا ۔
ماں: بیٹی اب تمھارا اس ملک میں کوئی نہیں رہا جا اپنی وطن واپس ہمارے طرف سے تمھیں اجازت ہے۔ نتاشا نے کہا
نتاشا: ماں اپنے ملک جانے کے لئے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے کم ازکم گھر تک پہنچنے میں مجھ پر ایک لاکھ روپے خرچہ آتا ہے کہاں سے لاؤں ۔یونس کے والدہ نے اپنے بڑے بیٹے سے کہا ۔
ماں: بیٹا خدا کے واسطے کچھ پیسہ جمع کر کے نتاشا کو اُس کے وطن واپس روانہ کر دو ۔بیٹے نے کہا
بیٹا: ٹھیک ہے ماں مگر میں اتنے پیسے کہاں سے لاؤں ۔
آخر کار نتاشا کے سمجھ میں آیا کیوں نہ وہ اپنے ملک کی سفارت خانہ جاکر اپیل کرے ۔ نتاشا نے یونس کے والدہ سے کہا
نتاشا: ماں مجھے معلوم ہے یہاں پیسے پیدا کرنا بہت مشکل ہے مجھے اپنے ملک کے سفارت خانہ تک پہنچنے میں مدد کروالو ۔کچھ دنوں کے بعد یونس کے بھائی نتاشا کو لے کر سفارت خانہ پہنچا دیااور نتاشا سفارت خانہ پہنچ کر اپنی کہا نی سنائی ۔سفارت کاروں نے اُسے تسلی دی کہ وہ اُس کی ٹکٹ کا بندوبست کر لیا جائے گا۔نتاشا ایک ہفتہ سفارت خانے میں رہی بعد میں اُس کے ٹکٹ کا بندوبست کر کے اُسے روانہ کیا گیا ۔
نتا شا جب اپنے گھر کے دروازے کے قریب پہنچا تو آواز دی
نتاشا: ماں! دیکھ میں آگئی ہوں اب میں تمھیں چھوڑ کر کہیں بھی نہیں جاؤں گی
مگراندر سے کوئی آواز نہیں آیا نتاشا آگے بڑا تو دروازے پر ایک تالا لگا ہوا تھا نتا شا بھاگ بھاگ کر ہمسائے کے گھر گئی ۔گھر میں ایک بوڑھی عورت تھی نتاشا نے عورت سے پوچھا
نتاشا: میری ماں کہا ں ہے۔ عورت نے نے کہا
عورت: بیٹی آپ بیٹھ جائیں پانی پیئے چائے پیئیں۔نتاشا نے کہا
نتاشا: نہیں مجھے اپنی ماں سے ملنا ہے ۔ اُس عورت کے آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے ۔ عورت نے آنسو ؤں کو پونچھتے ہوئے اور روتے ہو ئے کہا
عورت : بیٹی تمھاری ماں تمھارے جانے کے بعد ہردن روتی رہتی تھی اور تمھیں یاد کر تی تھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ وہ اس دنیا کو چھوڑ کر چلی گئی ۔نتاشا نے کہا
نتاشا: کیاکہ میری ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی ؟
عورت نے نتاشا کے ہاتھ کو تھام کر بٹھا دیا اور کہا
عورت : نتاشا تم نے بہت دیر کردی ۔
نتاشا یہ سن کر بے ہوش ہو کر گِر پڑی ۔عورت نے ڈاکٹر کو بُلایا تھوڑی دیر کے بعد ایمبولینس آیا نتا شا کو ہمیشہ کے لئے لے گیا۔
’’نتاشا نے کیا سوچا تھا کیا پایا‘‘
(شیکوف بلوچ)


Written by Shaikof