My - Dead Body



میری لاش

میں ایک آزاد انسان تھا۔ میں اپنی ملک ،قوم ، زبان ،ثقافت اور رسم ورواج سے بہت محبت کرتاتھا۔ مجھ سے اپنی قوم کی بیچارگی برداشت نہیں ہو پا رہا تھا۔ میں قوم کی خاطر اپنی زندگی قربان کرنے کیلئے تیارتھا۔ میں اپنی جوانی کے تمام خواہشات کو ملک وقوم کی خاطر قربان کردیاتھا۔ میں اپنے رشتہ داروں کو چھوڑ کر قوم کی بیچارگی کے خلاف آواز بلند کرنے کیلئے آگے بڑھا اورایک پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اور اپنے ورکروں کے ساتھ اکھٹے کام آگے بڑھانے لگا۔ میرا قوم اپنے ملک میں غیر قوموں کا غلام تھا۔ میرے ملک کے قیمتی چیزوں کو غیرقوم چوری چھپے لے جارہے تھے۔ مگر میرے قوم کو بالکل پتہ نہیں تھا۔ کہ اُس کے سرزمین کے قیمتی معدنیات کو غیرقوم چوری چھپے لے جارہے ہیں۔ میرے ملک کی سرزمین خدا کا دیا ہوا۔ ایک تحفہ تھا۔ کہ اُس کے پیٹ میں قیمتی معدنیات جیسا کہ،سونا، چاندی،کوئلہ ،تانبا ،گیس ، پٹرول ،سنگ مرمر،ہیرا،اور بہت سے دوسرے قیمتی اشیاء وجود رکھتے تھے۔
جب مجھے پتہ لگا کہ غیر ملکی ہمارے قوم کے سرمایہ کو چوری چھپے لے جارہے ہیں۔ تب میرے دل کو ایک بہت بڑا دچکہ لگا۔ میں نے قوم کو اطلاع دینے کیلئے ایک جدوجہد شروع کی اورا پنے پارٹی والوں کے سامنے ایک قراردار رکھ دیا ۔ کہ ہمیں اپنے قوم کو سمجھانا ہے۔ کہ ایک دن آئے گا۔ کہ ہمارے سرزمین کے اندر کوئی بھی قیمتی معدنیات نہیں بچیں گے۔ اور ہمارا سرمایہ ختم ہوجائے گا۔ آؤ ہم سب مل کر ایک ہوجائیں۔ اور ملک وقوم کو غیروں کی غلامی سے نجات دلائیں۔ میرے پارٹی والے میرے باتوں کی حمایت کرنے لگے۔ اور مجھے اس کام کیلئے سربراہ بنایاگیا۔ میں نے ایک ریلی کی تیاری شروع کی اور قوم کو اطلاع دینے کیلئے اعلان کیا۔ کہ اتوار کے دن غلامی سے نجات کیلئے ایک ریلی نکالی جائے گی۔ تاکہ ہم دُنیا کے باضمیر قوموں تک اپنی آواز پہنچائیں، کہ یہ غیر قوم ہمیں اپنے سرزمین پر غلام بنا کر ہمارے قیمتی معدنیات کو چوری چھپے لے جارہے ہیں۔ میرے پارٹی والے ہر طرف سے ریلی کی تیاری کرنے لگے۔ لوگ غلامی سے نجات کے ریلی میں شرکت کیلئے بے تاب تھے۔ جب یہ بات قبضہ گیر حکومت کے حامیوں کو پتہ چلا۔ تو اُن کو یہ چیز بالکل اچھا نہیں لگاکہ ہمارا قوم غلامی سے آزاد ہوجائے۔ اور اپنی سرزمین کا خود مالک بنے ۔ حکومت نے دفعہ 144 نافذ کرکے ہرطرح کے ریلیوں پر پابندی لگادی۔
ایک دن جب میں اپنے گھر میں آرام کررہا تھا۔ تو حکومت کے انٹیلی جینس کے کچھ لوگ جن کے چہرے چادر سے چھپائے ہوئے تھے۔ بندوق کے زور پر مجھے زبردستی اغوا کر گئے۔ میرے آنکھوں پر کالی پٹی لگادی گئی۔ میرے ہاتھ اور پاؤں کو زنجیروں سے باندھ دیا گیا۔مجھے گاڑی میں سوار کرکے روانہ ہوگئے۔ مجھے بالکل پتہ نہیں تھا۔ کہ مجھے کہاں لے جارہیں کچھ وقت کے بعد مجھے ایک جگہ اُتاردیا گیا۔ اور ڈنڈوں سے مارنا شروع کیا۔ میں نے آواز بلند کی تم لوگ کون ہو۔ اور مجھے کیوں مار رہے ہو۔ آوازآئی کہ تم ایک غلام قوم کے ایک بے بس آدمی ہو۔ مگر اپنے قوم کو ہمارے غلامی سے نجات دلانا چاہتے ہو۔ اب ہم تمھاری آواز کو ایسے بند کریں گے۔ کہ کوئی دوسرا تمھیں دیکھ کر سبق حاصل کرے۔ اور غلام قوم کوآزاد کرنے کی بات نہ کرے۔ تب اُن ظالموں نے مجھے اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہوکر زمین پر گر پڑا۔ پتہ نہیں کتنے گھنٹے میں بے ہوش پڑھا رہا۔ مجھے ہوش میں لانے کیلئے کسی نے کچھ حرکت ہی نہیں کی۔ جب میں ہوش میں آیا ۔ تب میں بہت پیاسا تھا۔ میں نے ایک گلاس پانی مانگا انھوں نے مجھے ایک گلاس پانی دیا جو اتنے گرم تھے۔ کہ میرے حلق سے نہیں گذر رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھے ایک روٹی کا ٹکڑا دیا گیا۔ جو اتنا نمکین تھا۔ کہ جسے چھبایا نہیں جاسکتا تھا۔ پتہ نہیں یہ لوگ کتنے دن تک مجھے اسی طرح سزا دیتے رہے۔
ایک دن میں بے ہوش پڑا ہواتھا۔ ایک آدمی میرے قریب آکر میرا ایک ہاتھ اوپر کرکے ایک انگلی کو زور سے پکڑ لیا۔ دوسرا آدمی پلاس کی مدد سے میرا ناخن کھینچنے لگا۔ میں ہوش میں آکر ایک چیانٹ (بلند آواز) مارا تو ان میں سے ایک نے میرے منہ پر تھپٹر مار کر میرے منہ پر زور سے ایک پٹی باندھ دی ۔ زبردستی میرے انگلیوں کے تمام ناخنوں کو نکال دیا گیا۔ اس طرح کا دردمیں نے پہلے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا۔ میں درد سے آواز لگا رہا تھا۔ مگر میرے منہ پر لگی پٹی کی وجہ سے میرا آواز باہر نہیں نکل پا رہا تھا۔میرے ہاتھ اور پاؤں زنجیر سے باندھے ہوئے تھے جس کی وجہ سے میں ہل بھی نہیں سکتا تھا۔ اس وقت خدا کے بغیر میرا آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔ مگر خدا بھی اس وقت میرا مدد کرنے کو تیار نہیں تھا۔ کچھ دنوں کے بعد یہ لوگ مجھے گرم لوہے سے داغ دینا شروع کیے۔ میرے سارے جسم کو گرم لوہے سے سوراخ کیاگیا۔ بعدمیں میرے منہ کو پتھر مارنے لگے۔ ایسا لگ رہا تھا۔ کہ مجھے سنگ سار کر رہے تھے۔ میں بے ہوش ہوکر واپس گِر پڑا۔ جب میں ہوش میں آیا تو میرے چہرے سے خون بہہ رہا تھا۔ اب میں اُٹھنے کے قابل نہ تھا۔ ان میں سے ایک آدمی آکر میرے پیشانی پر پستول رکھ دیا۔ پستول کے آواز کے ساتھ ہی میرا روح میری جان سے نکل گیا۔ اب میرا جسم ایک لاش کی طرح پڑا تھا۔رات کے وقت میرے لاش کو اُٹھا کر بائی پاس روڈ کے کنارے پھینک دیا گیا۔
صبح کے وقت یہاں رہنے والے ارد گرد کے لوگ میرے لاش کو دیکھنے کیلئے آنا شروع ہوئے۔ مگر میرے چہرے کو کوئی نہ پہچان سکا۔ پولیس کو فون کیا گیا۔ پولیس کا گاڑی پہنچ گیا۔ میرے لاش کو گاڑی میں رکھ کر ہسپتال پہنچایا گیا۔ڈاکٹروں نے میرے لاش کا پوسٹ مارٹن کردیا۔ مگروہ یہ معلوم نہ کر سکے کہ لاش کس کا ہے؟ اور کس نے اُسے مارا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد اخبار اور ٹیلی ویژن والے آئے۔ اخبار والوں نے میرے چہرے کے تصاویر کھینچ لیے اور ٹیلی ویژن والوں نے ویڈیو ریکارڈنگ کیے۔ دوسرے دن اخبار کی سُرخی کچھ اس طرح تھی۔ ’’بائی پاس کے قریب ایک نامعلوم شخصی کی مسخ شدہ لاش برآمد ‘‘ میں نہیں جانتا کہ کتنے ماؤں کے جان کے ٹکڑوں کو اس طرح مار کر اُن کے چہروں کو مسخ کرکے روڈ کے کنارے پھینک دیا گیاہوگا۔ ہسپتال میں بہت سے لوگ میرے لاش کو دیکھنے آئے۔ ان کے ساتھ میرا ماں بھی شامل تھا۔ ہر ایک میرے لاش دیکھ کر آگے بڑھتا۔ جب میری ماں میری نزدیک آگئی۔ اور میرے لاش کو غور سے دیکھنے لگی۔ مگر میرا چہرہ مسخ ہونے کی وجہ سے وہ مجھے پہچان نہ سکی ۔ جبکہ میرے ہاتھ اور پاؤں کے انگلیوں کو بھی نکال دیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے مجھے ہاتھ اور پاؤں کے ذریعے بھی نہ پہچان سکے۔ اور بعد میں میری ماں میرے خون کو سونگنے لگی۔ تب اُسے یاد آگئی۔ کہ وہ کس طرح مجھے لولی دیا کرتی تھی۔ کس طرح مجھے دودھ پلایا کرتی تھی۔ کس طرح وہ میرے آنکھوں کے آنسوؤں کو صاف کیا کرتی تھی۔ کس طرح وہ مجھے اپنی ہاتھوں سے کھانا کھلایا کرتی تھی۔ کس طرح میں اُس سے کھیلا کرتا تھا۔ اور ایک فریاد کرتے ہوئے کئی’’اے میری جگر کاٹکڑا میری بیٹے کی لاش ہے۔‘‘ اور زمین پر گر کر بے ہوش ہو گئی۔بعد میں میرے لاش کوپولیس والوں سے لے کر گھر پہنچایاگیا۔ میرے بھائی بہن۔ ماں باپ میرے لاش کو دیکھ کر بے قابو ہو کر رو رہے تھے۔ میرے ہمسائے اور میرے رشتہ دار بھی جمع ہونے لگے۔ جو بھی میرے لاش کو دیکھتا اُس کے آنسو خود بخود نکل جاتے۔ میری لاش کو اتنا مسخ کردیا گیا تھا۔ کہ مجھے نماز جنازہ بھی نصیب نہیں ہوا اور نہ مجھے غسل دیا گیا۔ صرف ایک سفید کپڑے میں باندھ کر مجھے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ بعد میں حکومت کے حامیوں نے میرے بھائیوں کو ٹارچر کرنا شروع کیا۔اسی طرح میرے تمام خاندان نے قوم کیلئے اپنی اپنی جانیں قربان کیے۔
مگر آج افسوس سے کہنا پڑتاہے۔ بجائے اس کے قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرایا جائے۔ اپنے ملک کو آزاد کیا جائے۔ دُنیا کے دوسرے قوموں کے شانہ بشانہ کھڑا ہوجائیں۔ کچھ لوگ میری لاش پراپنا سیاست چمکا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی سیاست کو چمکانے کے خاطر اپنے جلسوں میں میری تصاویر آویزاں کرتے ہیں۔ تاکہ لوگوں کو دھوکہ دے دیں۔ کہ وہ بھی اُس راہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ جس راستے کیلئے میں نے اپنی جان قربان کردی تھی۔ قبضہ گیروں کے حامی اپنے کرسیوں کو مضبوط بنانے کے خاطر میری لاش کو استعمال کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ قوم کو دھوکہ دینے کیلئے میر ی لاش کو استعمال کررہے ہیں۔ میرے بہت سے دوست میرے لاش کو دیکھ کر صحیح راستے کو بھول گئے۔ بہت سے لوگ اپنی پیٹوں کے خاطر میری لاش کی سودا کر رہے ہیں۔ میرے کچھ ایسے بھی دوست ہیں جو میرے نظریات اور خیالوں کو آگے بڑھانے کیلئے رواں دواں ہیں۔ میرے جدا ہونے کے بعد اُن کی تحریک میں کچھ سستی ضرور آئے ہوگی۔ مگر وہ لوگ اپنی قوم کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے اپنی جانیں داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں۔ کہ دشمن کی گولیاں ختم ہوں گے مگر اُن کی جانیں ختم نہیں ہوگے۔ وہ اپنی قوم کو غلامی سے نجات دلانے کیلئے لاشوں کے ڈھیر لگا دیں گے۔ مگر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مارٹن لوتر کننگ نے اپنے قوم کو ایک سچا بات کہاتھا۔ کہ
’’جو قومیں سچ بولنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ فنا ہو جاتے ہیں۔‘‘
اسی ایک بات نے مارٹن لوتر کننگ کے قوم کو غلامی سے نجات دلانے میں مدد کی۔ اور آج وہ دوسرے قوموں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ کیونکہ قومیں بندوق کے گولیوں سے ختم نہیں ہوتے بلکہ جھوٹ کاہلی اور نامردی کی وجہ سے ختم ہوتے ہیں۔ شاعر نے کی خوب کہا ہے۔
کس بات پہ تم یو نازاں ہو۔
کس بات سے تم دم بھرتے ہو۔
میرے لاش پہ سوسو پیرے ہیں۔
میری لاش سے تم بھی ڈرتے ہو

مصنف: شیکوف
Written by Shaikof Baloch