جوا کا کھیل

Gambling-Urdu

جوا جیتنے کیلئے قسمت کے ساتھ ساتھ طریقہ کار کو سمجھنا اور طاقت کا ہونا لازمی ہے



ادیسا بہت خوبصورت شہر ہے ۔بلیک سمندر( جسے روسی میں چور نایا مور کہتے ہیں ) شہر کے ساتھ اٹیچ تھا ۔کاروباری حوالے سے بھی ایک اہم شہر ہے ۔ایک دن میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ادیسا شہر کے سمندر کنارے چلے گئے ۔سمندر ہمارے ہاسٹل سے بالکل نزدیک تھا ۔سمندر کے پاس ہی کچھ لوگ جوا کھیل رہے تھے ۔ہم لوگ اُن کے پاس گئے ۔تو ایک آدمی کے پاس تین چھوٹے چھوٹے گلاس اور ایک چھوٹا سا گیند تھا ۔وہ گیند کو ایک گلاس میں رکھ کر سارے گلاسوں کو اُلٹا زمین پر رکھ دیتا تھا۔اور بعد میں گلاسوں کا جگہ تبدیل کر دیتا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جس گلاس میں گیند رکھا ہوا تھا ۔وہ صاف ظاہر نظر اڑاہا تھا۔
مجھے وظیفہ ملا تھا اور اس وقت میرے پاس پچاس روبل بچ گئے تھے ۔میں نے پچاس روبل جیب سے نکال کر اُس آدمی کو دیئے جو اس کام کو سنبھالا ہوا تھا ۔ شرط یہا ں پر یہ تھا ۔ کہ جس گلاس کوکوئی اُٹھائے گا ۔اگر اُس گلاس میں گیند موجود ہوا ۔تو اُسے پچاس روبل ملیں گے ۔اگر نہیں تو اُس کے پچاس روبل گئے ۔اُس آدمی نے پچاس روبل لے کر مجھے گلاس اُٹھانے کی اجازت دے دی ۔جس گلاس پر میرے نظریں جمے ہوئے تھے ۔میں نے وہی گلاس اُٹھایا ۔مگر گلاس خالی تھا ۔میرے پچاس روبل چلے گئے۔میرے پاس اور کوئی چیز نہیں تھی ۔صرف ایک گھڑی میرے ہاتھ میں باندھی ہوئی تھی
جسے میرے بھائی نے مجھے تحفہ میں دیا تھا ۔ میں نے اُس آدمی سے کہا کہ اس گھڑی کی کیا قیمت دو گے ۔اس نے کہا دو سو روبل۔میں خوش ہوا ۔اگر میں جیت گیا تو مجھے دوسوروبل ملیں گے ۔دوست نے میرا ہاتھ روکنے کی کوشش کی کہ میں یہ غلطی دوبارہ نہ کروں ۔ مگر میں نے اُس کی بات ماننے سے انکار کر دیا ۔اور گھڑی دے دیا ۔دوسرے بار مجھے گلاس اٹھانے کی اجازت دی گئی ۔جس گلاس پر میرے نظریں لگے ہوئے تھے ۔میں اُس گلاس کو اُٹھایا ۔تو وہ گلاس بھی خالی نکلا۔ میرے گھڑی اور پچاس روبل جوئے کے نظر ہوگئے تھے ۔زندگی میں پہلی بار جوا کھیلاتھا ۔اور وہ بھی ہار گیا ۔میں بہت پریشان ہوا ۔دوست نے کہا ۔ خیر ہے جو ہوا تو ہو ا یہ مہینہ کسی نہ کسی طریقے سے گزارہ کر لیں گے ۔میرے پاس دو گھڑی والے پین تھے ۔دوسرے دن اُس دوست کے ساتھ ایک دکان گئے ۔ایک پین دکاندار کو دیئے اُس نے مجھے چوبیس روبل دیئے ۔چلو اچھا ہوا خرچہ تو مل گیا ۔ ایک دن ہمارا رومیٹ رو سی د وست نے ہمیں کہا کہ چلو سمندر تیر نے چلتے ہیں ۔ہم اس کے ساتھ سمندر کنارے گئے میں تو تیرنا نہیں جانتا تھا ۔میں ڈررہاتھا ۔ بلیک سی وہاں بہت گہرا تھا ۔وہ دونوں ساتھی تیر نا جانتے تھے کپڑے اُتار کر سمندر میں گئے اور تیرنے لگے ۔میں بھی سمندر میں اُتر گیا ۔میں بہت آہستہ آہستہ اپنے پاؤں کو آگے بڑھارہاتھا ۔میں تیرنا نہیں جانتا تھا ۔اس لئے زمین کاسہارا ڈھونڈ رہاتھا کہ اچانک میرے پاؤں زمین سے اُٹھ گئے ۔اب میں سمندر کے اندر تھا ۔میں پریشان ہوگیا ۔آنکھیں اور سانس بند کر لئے واپس مڑا ۔اپنے کو بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا اچانک واپس میرے پاؤں زمین سے ٹکراگئے ۔جب میں نے آنکھیں کھولی اور زمین پر کھڑا ہوگیا ۔ محسوس کیا میں بچ گیا ہوں خدا کا شکر ادا کر کے سمندر سے باہر نکل آیا ۔ساتھیوں نے مجھے آواز دی کہ میں واپس جاؤں ۔میں نے اُن کو کہا کہ میں ڈوب کر بچ نکلا ہوں ۔اب میں نہیں آؤں گا ۔
’’اس وقت مجھے احسا س ہوا کہ سمندر کے ساتھ دوستی کرنے سے پہلے تیرنا سیکھنا چاہیئے ۔‘‘
کچھ دنوں کے بعد میرے لئے ایک لیٹر ماسکو سے آیا ۔لیٹر میں لکھا ہوا تھا کہ تمھارا مضمون تبدیل کرکے کمپیوٹر رکھا گیا ہے ۔اور ساتھ ساتھ شہر اور انسٹیٹوٹ بھی تبدیل ہوگئے ہیں ۔میں لیٹر کو پرنسپل کے پاس لے گیا ۔پرنسپل نے لیٹر اُٹھا کر ویزا کیلئے کچھ دنوں کا وقت مانگا ۔میں ویزا کے انتظار میں شہرمیں گھوم رہاتھا ۔اچانک میر ے نظر یں روڈ پر بیٹھے ہوئے جوا کھیلنے والوں پر پڑی ۔لوگ جوا کھیل رہے تھے ۔اور میں دیکھ رہاتھا اور گیم کو سمجھنے کی کوشش کررہاتھا ۔کہ جس گلاس میں یہ گیند کو ڈالتا ہے ۔مگر بعد میں اُس گلاس میں گیند موجود نہیں ہوتا ۔کیونکہ میں نے دوبار غلطی کی تھی ۔تیسرا غلطی نہیں کر نا چاہتا تھا ۔ اس لیئے تو کہتے ہیں کہ
’’غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیئے ۔‘‘


میں اُس آدمی کے ہاتھوں کو غور سے دیکھ رہاتھا ۔وہ نیا گیم شروع کرنے والا تھا ۔اُس کے ہاتھ میں تین گلاس اور ایک گیند تھا ۔جس گلاس میں وہ لوگوں کو دکھانے کے لئے گیند ڈالا ۔سارے لوگو ں کے نظر یں اُسی گیند پر جمے ہوئے تھے ۔مگر میری نظریں اُس کے انگلیوں پر لگے ہوئے تھے ۔کہ اچانک اُس کے انگلیوں میں سے ہوتے ہوئے گیند دوسرے گلاس میں ڈال دیاگیا ۔یہ سیکرٹ صرف میں نے سمجھ لیا ۔اور کسی کو سمجھ نہیں آرہاتھا ۔جب اُس نے تینوں گلاس رکھ لئے ۔اور گلاسوں کے جگے تبدیل کئے ۔تو ایک عورت نے پچاس روبل دیکر پہلے والے گلاس کو اُٹھا لی ۔مگر وہ خالی تھا ۔عورت کے سارے پیسے وہی پچاس روبل تھے وہ رونے لگی ۔مگر اُس کی آنسوؤں کی کسی کو پرواہ نہ ہوئی وہ روتے ہوئے چلی گئی ۔میرے جیب میں ایک گھڑی والا پین تھا ۔ میں نے گھڑی والا پین جیب سے نکال کر اُس آدمی کودکھایا کہ اس کاکیا قیمت ہے ۔اُس نے کہا کہ پچاس روبل۔ اس بار مجھے معلوم تھا کہ گیند کس گلاس کے نیچے رکھا ہوا ہے ۔اب صرف دوگلاس رکھے ہوئے تھے ۔ میں نے ایک گلاس کو اوپر کردیا۔تُو اس کے نیچے گیند پڑاہواتھا ۔اُس آدمی نے مجھے پچاس روبل دے دیے۔ میں دل میں بہت خوش تھا کہ اچھا ہوا میرا پچاس روبل واپس مل گئے ۔پیسے ابھی تک جیب میں ڈالا ہی نہیں تھا ۔کہ اچانک جوا کھیلنے والے غنڈوں نے مجھے پکڑ لیا ۔اور کہے کہ پیسے دے دو ورنہ ہم تم کو مار دیں گے ۔میں نے اُنھیں کہاکہ پیسے نہیں دوں گا ۔پیسے میرے مٹھی میں تھے ۔انھوں نے بہت زور لگا یا مگر میرا مٹھی نہیں کھول سکے ۔کسی نے میرے بال پکڑے ہوئے تھے ۔کوئی لات مار رہاتھا ۔میں نے چیخ کر لوگوں کوآواز دی ۔یہ غنڈے میرے پیسے چین رہے ہیں ۔مجھے بچائیں ۔روس میں ایک چیز میں نے دیکھا کہ لڑائی کے وقت چھڑانے یا بچانے والا کوئی نہیں ہوتا ۔آخر کار جوا کھیلنے والا خود آکر مجھے چھڑالیا ۔اور کہا جاؤ میں روانہ ہوا ۔ اور مجھے احساس ہوا کہ

’’جوا جیتنے کیلئے قسمت کے ساتھ ساتھ طریقہ کار کو سمجھنا اور طاقت کا ہونا لازمی ہے ۔‘‘
تھوڑا آگے بڑھنے کے بعد جب میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو غنڈے مجھے گور گور کردیکھ رہے تھے ۔جس طرح کہ بھیڑیااپنے شکار کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔‘‘ میں نے اُن پر ہاتھ اُٹھا کر کہا کہ میں تم لوگو ں کو دیکھوں گا ۔وہ میرے طرف بڑھنے لگے میں بھاگ گیا ۔میں بھا گ رہاتھا ۔وہ میرے پیچھے بھاگ بھاگ کے آرہے تھے اچانک میرے جیب سے گھڑی والا پین گر گیا ۔اور میں اُس کیلئے نہیں رُکاکیونکہ میں سمجھ گیا ۔کہ اگر میں رُک کر پین کواُٹھاؤں گا ۔تو وہ پہنچ جائیں گے ۔انھوں نے آکر پین اُٹھایا اور رُک گئے ۔اور میرا پیچھا کرنا چھوڑدیا ۔انسٹیٹوٹ ادھر سے نزدیک تھا میں انسٹیٹوٹ چلا گیا ۔تاکہ ان کے نظروں سے اوجھل ہوجاؤں ۔جس دن سے میں نے سوچا کہ اگر جوا کا انجام اس طرح ہوتا ہے ۔تو میں آئندہ جوا نہیں کھیلوں گا۔اور اُسی دن سے آج تک پھر کبھی میں نے جوا نہیں کھیلا ۔اور نہ کبھی دوسری گھڑی ہاتھ پر باندھ لی ۔


مصنف : شیکوف بلوچ


Written by Shaikof Baloch