Encouragement

حوصلہ افزائی

ایک شاہین کا انڈا مرغی کے نیچے رکھا گیا۔ جب شاہین پیدا ہوا تو دوسرے چوزوں کو دیکھ کروہ اپنے آپ کو بھی چوزہ سمجھنے لگا۔ دوسرے چوزے جو کچھ کرتے ۔ وہ بھی وہی کچھ کرتا۔ وہ انہی کی طرح کوڑے کو کرید کردانہ ڈنکا ڈھونڈتا اور انہی کی طرح آوازیں نکالتا تھا ۔ وہ چند فٹ سے زیادہ نہیں اُڑتا تھا۔ کیونکہ دوسرے چوزے بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ ایک دن اس نے آسمان پر شاہین کو اُڑتے دیکھا ۔ تو اپنی ساتھی چوزوں سے پوچھا۔’’اس خوبصورت پرندے کا نام کیاہے۔ ‘‘چوزوں نے کہا کہ ’’شاہین‘‘ پھر اُس نے سوال کیا کہ میں بھی اسی طرح اُڑنا چاہتا ہوں کیا یہ میں کر سکتا ہوں۔ ’’چوزوں نے کہا نہیں تم نہیں کرسکتے یہ شاہین ہے یہ ایک نادر پرندہ ہے۔ تم اسکی طرح نہیں اُڑ سکتے کیونکہ تم تو محض چوزے ہو‘‘ شاہین کے بچے نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ وہ چوزہ ہے یانہیں۔ اس نے دوسرے چوزوں کے کہے کو سچ مان لیا۔ اس نے ایک چوزے کی سی زندگی گذاری اور مر گیا۔
کتنا بڑا نقصان ہے! وہ فتح کرنے کے لیے پیدا ہوا تھا لیکن اس کے ذہن میں ڈالا گیا کہ وہ ہارنے کے لیے پیدا ہوا ہے ۔
اگر اس کی حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی ہوتا۔ اور اُسے کہتا کہ تو شاہین ہے تو اُڑ سکتا ہے تو فتح کرنے کے لیے پید اہوا۔ یہ جنگل یہ بیاباں یہ پہاڑ کی چوٹیاں سارے تمھارے انتظار میں ہے۔ تو کوشش کر اُڑ جا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جا۔ ساری دُنیا کو تمھارا ہی انتظار ہے۔ یقیناًوہ شاہین کا بچہ اُڑ جاتا ۔ کیونکہ اُس میں اُڑنے کی صلاحیت موجود تھی ۔ مگر اُس کی حوصلہ افزائی کرنے والا اور رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ جس کی وجہ سے وہ جس معاشرے میں پیدا ہوا اور اُسی معاشرے کے مطابق زندگی بسر کرلی۔ دُنیا کی نعمتوں سے محروم ہو گیا اور آخر کار دنیا سے بھی کوچ کیا۔ ضروری نہیں شاہین کا بچہ صرف اپنی ہی ماں کے پاس جنم لیتا۔ ضروری یہ ہے کہ اس کی رہنمائی کرنے والا کون تھا۔ اب یہاں پر ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شاہین کا بچہ اپنی ماں کے گود میں جنم لیتا اور جنم لینے کے بعد اُس کی ماں مر جاتی تو شاہین کیسے زندگی گذارتا؟ آیا وہ چوزوں کی طرح زندگی گذارتا یا شاہین کی طرح؟ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ہیں جن میں بڑی صلاحیتں موجود ہیں مگر معاشرے میں اُن کا حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اور نہ اُس کو صحیح گائیڈ کرنے والا ہوتاہے۔ اگرکوئی بچہ کوئی ڈاکٹر بننا چاہے اور وہ اپنے دوست سے کہے کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے۔ کیا وہ ڈاکٹر بن سکتا ہے۔ یقیناًیہاں پر اُس کا سامنا دو طرح کے لوگوں سے ہوسکتا ہے۔
پہلا منفی رحجان رکھنے والا دوست
دوسرا مثبت رحجان رکھنے والا دوست
اگر وہ منفی رحجان رکھنے والے دوست کے پاس چلا جاتا ہے اور اُس سے یہی سوال کرتا ہے اُس کا دوست اُس کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے اُس کا مذاق اُڑانا شروع کر دیتاہے۔ کہ شکل دیکھو اور ڈاکٹر بننا دیکھو۔ پہلے منہ دھو لو پھر ایسی باتیں کرو۔ جیب میں تمھارا یک روپیہ نہیں اور تم ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتے ہو۔ تمھارا کا م پڑھائی نہیں ہے۔ تم نہیں پڑھ سکتے ۔ میں نے پڑھ کر کونسا تیر مارا ڈگری ہولڈر ہوں مگر کوئی نوکری نہیں ملتا ۔ بیکار گھوم رہا ہوں۔ اُس بچے کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔ اُس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اور نہ اُس کی صحیح معنی میں رہنمائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اُس کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں اور وہ ڈاکٹر کبھی نہیں بنتا۔
اگر وہ مثبت رحجان والے دوست کے پاس مشورہ لینے جاتاہے اور اُس سے یہی سوال کرتاہے۔ تو اُس کا دوست اُس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ کہ آپ ضرور ڈاکٹر بنیں گے۔ آپ میں صلاحیت ہے اپنی صلاحیتون کو بروئے کار لاؤ۔ لکھو پڑھو اپناوقت فضول ضائع مت کرو، کسی ڈاکٹر کا مثال پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اُس کاباپ غریب تھا۔ مگر اُس نے محنت کی پڑھ لکھ کر آج وہ ایک ڈاکٹرہے۔ یقیناًجب بچے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ تب وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گی ۔ مشکلات خود بخود آسان ہو جائیں گے۔
’’ہر کام مشکل ہو سکتا ہے مگر نا ممکن نہیں ہوتا‘‘
ولمار ڈولف ٹینی سی، امریکہ میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئی ۔ چارسال کی عمر میں اُسے ڈبل نمونیہ اور سُرخ بخار ہوا جس کے نتیجے میں وہ مفلوج ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے کہاکہ وہ کبھی اپنے پیروں پہ چل نہیں سکے گا۔ تا ہم اس کی ماں نے اس کی ہمت بندھائی اور اُس کی حوصلہ افزائی کی اس نے ولما سے کہاکہ وہ خدا وند کی عطا کی ہوئی صلاحیت، مستقل مزاجی اور عقیدے کے ذریعے چو چاہے کر سکتی ہے۔ ولما نے کہا’’میں دُنیا میں سب سے تیز دوڑنے والی لڑکی بننا چاہتی ہوں‘‘ اس کی ماں نے کہا کہ آپ ضرور بنیں گے۔ نو سال کی عمر میں اس نے ڈاکٹروں کی ہدایت کے برعکس عمل کرتے ہوئے پٹی اُتار دی اور زمین پرپہلا قدم رکھا۔ تیرہ سال کی عمر میں اس نے دوڑ میں پہلی بار حصہ لیا۔وہ آخری نمبر پر آئی ۔ اس کے بعد اس نے مسلسل کئی مقابلوں میں حصہ لیا اور آخری نمبر پر رہیں۔
ُپندرہ سال کی عمر میں اس نے ٹینی سی سٹیٹ یونیورسٹی کے کوچ ایڈٹمپل سے ملاقات کی اس نے اُس سے کہا ’’میں دُنیا میں سب سے تیز دوڑنے والی لڑکی بننا چاہتی ہوں’’ٹیمپل نے اُس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا۔ اپنے جذبے کی وجہ سے تم ضرور دُنیا کی سب سے تیز رفتار سے دوڑنے والی لڑکی بن سکتی ہو میں تمھاری مدد ضرور کروں گا۔‘‘
پھر وہ دن آیا کہ ولما اولمپکس میں پہنچ گئی۔ اور المپکس میں وہی شریک ہوتا ہے۔ جو بہترین کھلاڑیوں سے بہتر ہوتاہے۔ ولما کا مقابلہ جُٹایا ئنے(Jutta Heine) نامی عورت سے تھا۔ جس نے کبھی کسی مقابلے میں شکست نہیں کھاتی تھی۔ پہلا مقابلہ سو میڑ دوڑ کاتھا۔ ولما نے جُٹا یائنے کو ہرا کر سونے کا تمغہ جیت لیا۔ دوسرا مقابلہ دوسو میڑ دوڑ کا تھا۔ ولما نے اس بار بھی جُٹا یائنے کو ہرا دیا اور سونے کا دوسرا تمغہ جیت لیا۔ تیسرا مقابلہ چارسو میٹر ریلے ریس کا تھا۔ اور اُسے جٹایائنے سے ہی مقابلہ کرناتھا۔ ریلے میں تیز رفتار ترین کھلاڑی آخری مرحلے میں دوڑتا ہے۔ ان دونوں نے اپنی اپنی ٹیموں کے لیے آخری مرحلے میں دوڑنا تھا۔ اس سے پہلے کی تین کھلاڑیوں نے ڈنڈا(Baton) ان تک پہنچا دیا لیکن ولما کے ہاتھ سے ڈنڈا گرگیا۔ ولما نے دیکھا کہ جٹا یائنے تیزی سے دوڑی جارہی ہے۔ اس نے جلدی سے ڈنڈا اُٹھایا اور کسی مشین کی طرح دوڑنے لگی اس نے اس مرتبہ بھی جٹا یائنے کو ہر ادیا اور سونے کا تمغہ جیت لیا۔ یہ ایک تاریخی واقعہ بن گیا۔ کہ ایک معذور عورت نے 1960 ء کے اولمپکس میں خود کو دُنیا کی سب سے تیز دوڑنے والی عورت کا اعزاز دلوایا۔ ولما کو کامیابی دلانے میں سب سے زیادہ اُس کی ماں کی حوصلہ افزائی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ دُنیا میں تیز ترین عورت کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
کہنے کا مطلب یہ ہے۔ کہ صرف چھوٹی سی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ایک انسان میں ہمت پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اورریل کو پٹڑی پر ڈالا جاسکتا ہے۔ آگے وہ خود بخود اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوگی۔۔
’’ جب اُمید مرجاتی ہے تومواقع کبھی اس کے جنازے پر نہیں آتے‘‘
ڈاکٹر نپولین ہل


Written by Shaikof

Words of encouragement

Every work is deficult but it isn't inpossible
Where there’s a will, there’s a way