Novel Love Story

Main Page  Part 1   Part 2   Part 3   Part 4   Part 5   Part 6   Part 7   Part 8   Part 9   Part 10   Part 11   Part 12   Part 13   Part 14   Part 15   Part 16   Part 17   Part 18   Part 19   Part 20   Part 21   Part 22   Part 23   Part 24   Part 25   Part 26   Part 27   Part 28   Part 29   Part 30   Part 31  Part 32  Part 33 































رشی کی ماں رشی کی آواز سن کر دوڑ دوڑ کمرے میں داخل ہوتی ہے۔
ماں: کیا ہوا بیٹا! کیوں چلا رہے ہو؟
رشی : ماں وہ وہ۔۔۔۔۔
ماں: کیا بات ہے۔ بیٹا کیا ہوا۔
رشی: ماں صباء بہت پریشان ہے اُ سکی حالت بہت خراب ہے وہ مدد کیلئے مجھے بلا رہی ہے۔ میں صباء کے پاس جاؤں گا۔
ماں: بیٹایہ خواب تھا۔ خواب سچے کبھی نہیں ہوتے۔ کتنی بار تمہیں کہا ہے کہ صباء کو اپنے دل سے نکال دو۔ اب وہ تمہارا نہیں بلکہ کسی اور کی بیوی ہے۔
رشی: ہاں ماں مجھے معلوم ہے کہ وہ نمیران کی بیوی ہے مگر وہ میرا پیار بھی ہے اُس کا ہر دکھ درد میرا بھی ہے۔ آج وہ تکلیف میں ہے۔ مجھے پکار رہی ہے۔ میں اُس کی کچھ مدد نہیں کرسکتا۔
ماں: بیٹا یہ ایک خواب تھا۔ حقیقت شاید کچھ اور ہے۔ نمیران کوئی غریب گھرانے سے تعلق نہیں رکھتا ۔ اُس کے پاس خدا کا دیا ہوا ہر سہولت ہے وہ صباء کو ہر سہولت فراہم کرسکتا ہے۔ صباء اُس کے ساتھ خوش ہوگی۔
رشی: ماں! نمیران جتنا بھی صباء کو سہولت میسر کرے۔ مگر اُس کا دل میرے پاس ہے۔ میں اُسے محسوس کررہا ہوں۔ وہ ان سہولتوں میں خوش نہیں بلکہ تکلیف محسوس میں ہے۔
ماں: بیٹا تم صباء صباء کرکے دماغ کو خراب کر چکے ہو۔ اس لیے تمہیں بُرے خواب نظر آتے ہیں۔ چلو بیٹا اللہ کا نام لے کر اُٹھو ہاتھ منہ دھو لو۔ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا
رشی سمجھ رہا تھا کہ صباء تکلیف میں ہے مگر وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا۔ کیونکہ معاشرہ اُس کے سامنے ایک بہت بڑا رکاوٹ تھا۔ وہ اپنے کسی دوست سے بھی اپنے دل کی بات نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ صباء اب شادی شدہ تھی والدین معاشرے کے رسم ورواج کے خوف سے اپنے بیٹے کیلئے بے تاب تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے۔ کہ لوگوں کو پتا چلے کہ اُن کا بیٹا کسی شادی شدہ لڑکی کے پیارمیں مبتلا رہے۔ کیونکہ وہ بھی اس معاشرے کا ہی حصہ تھے۔ معاشرے میں کسی کی بیوی پر عشق و عاشقی کرنا جان جوکوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس لیے وہ چاہتے تھے کہ رشی ہر قیمت پر صباء کو بھول جائے۔
اب رشی کیلئے معاشرے کے ساتھ ٹکرانے سے یہی بہتر تھا کہ وہ اپنا سر دیوار کے ساتھ ٹکرائے جب بھی اُسے صباء کی یاد آتا وہ اپنا سر دیوار سے ٹکراتا رہتا ۔
نمیران اب بہت غصے میں تھا وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ صباء نے اُن کی خاندان کی عزت پر ہاتھ ڈالی ہے وہ اب اپنے خاندان کی عزت کو بچانے کیلئے صباء کے ساتھ ہر بُرا سلوک کرنا چاہتا تھا کیونکہ صباء نے اُسے کبھی بھی پیار کی نگاہ سے نہیں دیکھا ۔ اب وہ سمجھ رہا تھا کہ صباء اُس کی بیوی نہیں بلکہ ایک ایسی لڑکی ہے۔ جسکی جسم نمیران کے پاس ہے وہ جیسے چاہے اُس کے ساتھ سلوک کرے۔ رات کو نمیران غصے سے کمرے میں داخل ہوگئی۔ اور لائٹ آف کردیا۔ اب وہ صباء کے ساتھ اپنا دل بہلانا چاہتا تھا وہ صباء کے کپڑے اُتارے اور اُس نے صباء کے ساتھ وہ حرکت کی جیسا کہ کوئی پاگل مرد کسی لڑکی کے ساتھ زبردستی کرتاہے مگر صباء بے حس ایک کھلونا جیسی پڑی ہوئی تھی اُسے کچھ محسوس نہیں ہورہی تھی۔ اب صباء نمیران کیلئے ایک کھلونا بن چکی تھی۔ کیونکہ نمیران صباء کے خون کا پیاسا ہوچکا تھا۔ دوسرے دن دوپہر کے وقت نمیران ایک ڈنڈا اُٹھا کر کمرے میں داخل ہوگیا۔ صباء بے حس بیٹھی ہوئی تھی۔
نمیران: بتاؤ رشی کو بھول گئے یانہیں۔
صباء : وہ میرا پیار، میری زندگی ہے۔ میں اُسے کیسے بھول سکتی ہوں۔
نمیران: تم نے تو میرا زندگی حرام کردیاہے اب دیکھ میں تیری زندگی کیسے حرام کردوں گا تم نے میرے خاندان کی عزت پر ہاتھ ڈالی ہے مجھے رسوا کردیا ہے۔ اب لوگوں کے تھانے میں برداشت نہیں کرسکتا ہر ایک اب یہی کہہ رہا ہو گا کہ نمیران کی بیوی کسی دوسرے کے ساتھ عشق میں مبتلا ہے۔
صباء: میں نتمھیں پہلے کہہ چکی ہوں کہ میری روح رشی کے پاس ہے اور جسم تمھارا ہے جو تمھارا جی چائے کرو کیونکہ میں ایک عورت زاد ہوں اور عورت زاد کی ہمارے معاشرے میں کوئی حیثیت نہیں ۔
نمیران غصے میں آکر صباء کی بالوں کو پکڑ کر ڈنڈے سے اتنا مارا کہ صباء بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ نمیران اُسے چھوڑ کرگھرسے باہر نکل گیا۔


تھوڑے دیر کے بعد نمیران کی ماں صباء کے کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ صباء بے ہوش پڑی ہے۔ وہ صباء کے پاس گیا
ساس: ارے بیٹی کیا ہوا ! کس نے تمھاری یہ حالت کر رکھی ہے ۔ جلدی جلدی سے گھر والوں کو بلایا گھروالے جمع ہوئے تھوڑا ٹھنڈا پانی صباء کے چہرے پر چھڑکے مگر صباء ہوش میں نہیں آئی۔ ماں نے نمیران کو فون کیا نمیران نے موبائل کو آف کردیا۔ نمیران کی ماں نے جلدی جلدی ایک گاڑی کراوا کے صباء کو ہسپتال لے گیا۔ڈاکڑوں نے صباء کو جلدی سے ایمرجنسی وارڈ لے گئے ڈاکٹر صباء کے نبض کو چیک کیا صباء ابھی تک زندہ تھا ڈاکٹر تھوڑا سا سپرٹ صباء کی ناک میں انڈیلا۔ تھوڑی دیر کے بعد صباء کی آنکھیں کھل گئی ڈاکٹر کچھ دوائی لکھ کرساس کو دے دیابعد میں صباء کو واپس گھر لے جایاگیا۔
اُدھر صباء کے والدہ کومعلوم ہوا وہ گاڑی میں سوار ہوکر ہسپتال آئے مگر صباء کو واپس گھر لے جایا گیا تھا وہ گھر کی طرف روانہ ہوئے جب صباء کی والدہ گھر پہنچی تو صباء بسترپر لیٹی ہوئی ہوتی ہے۔ آنکھوں سے اُس کے آنسو بہہ رہے ہوتے ہیں۔ ماں صباء کے قریب آکر پوچھا
ماں: صباء بیٹی کیسی ہو یہ کس کی نظر تمھیں لگ گئی۔
صباء:ہلکی سے آواز میں اچھی ہوں ماں۔
ماں: بیٹی،ڈاکٹر نے کیا کہا؟
صباء:کچھ بھی نہیں کہہ کراور آنکھوں کو بند کرکے ایک آہ بھرلی۔
ماں نمیران کی ماں سے مخاطب ہوکر پوچھی
ماں: ڈاکٹر نے کیا کہا کیوں بے ہوش ہوگئی تھی میری بیٹی؟
ساس: ڈاکٹر نے کہا کہ کوئی ایسی بات نہیں کمزوری کی وجہ سے گر کر بے ہوش ہوگئی تھی یہ دوائیاں دے دی ہیں یہ دوائیاں کھاکر ٹھیک ہوجائے گی۔
صباء: ماں مجھے اپنے گھر لے چلو میں یہاں ٹھیک نہیں ہوجاؤں گی۔
ماں : ٹھیک ہے بیٹی چلو ہمارے گھر چلتے ہیں۔
ماں صباء کو گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر لے گئی۔


تھوڑی دیر کے بعد نمیران گھر واپس لوٹ آیا غصے سے صباء کے کمرے میں داخل ہوا تو صباء وہاں موجود نہیں تھی کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے میں دیکھا صباء وہاں بھی نہیں تھی اپنے والدین کے کمرے میں گیا صباء وہاں بھی موجود نہیں تھی نمیران اپنے والدہ سے پوچھا۔
نمیران: ماں ! صباء کہاں ہے ؟
ماں: بیٹا وہ بے ہوش ہوئی تھی میں نے تمھیں کئی دفعہ فون کیا مگر تم نے میرا فون نہیں اُٹھایا۔
میں اُسے ہسپتال لے گئی۔ ڈاکٹروں نے کچھ دوائی پلاکر اُسے ہوش میں لائے ہم اُسے واپس گھر لائے۔ بعد میں صباء کے والدین کو خبر ملی تھی وہ بھی ہمارے یہاں آئے صباء کی حالت بہت خراب تھی۔ اُسے اپنے گھر لے گئے۔
نمیران: وہ میرے اجازت کے بغیر کسیے اُسے لے گئے؟
ماں: بیٹا! صباء کی طبعیت بہت خراب ہے تم جاکر اُس کا حال پوچھو۔
نمیران : میرے لیے اُس کی موت بہترہے۔
ماں: ایسا نہ کہو بیٹا وہ تمھاری بیوی ہے۔
نمیران: نہیں مجھے ایسی بیوی نہیں چائیے۔
ماں: آخر بات کیا ہے بیٹا! تم اتنے غصّے میں کیوں ہو؟
نمیران: اچھا ہے ماں تمھیں خبر نہیں اُس نے ہمارے خاندان کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے اُس نے ہمیں رسوا کر کے رکھ دیا ہے میں شرم سے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔
ماں: بیٹا میں تمھارا ماں ہوں مجھے صاف صاف بتاؤ! مہاجرہ کیاہے؟
نمیران: صباء میری بیوی نہیں بلکہ وہ کسی کی معاشوقہ ہے۔
ماں: یہ تم کیا کہہ رہے ہو بیٹا! صباء تو ایسی لڑکی نہیں تھی میں نے تو اُس کے بارے میں کچھ بھی نہیں سُنی۔
نمیران : ہاں ماں! وہ ایسی لڑکی نہیں تھی مگر وہ ایسی لڑکی نکلی۔
’’زبان میں رام رام بغل میں چھری‘‘
اُس نے میرازندگی تباہ کردیا اُس نے مجھے رسوا کردیا اگر لوگوں کو پتا چلے گا تو کیا ہوگا۔
ماں: اچھا بیٹا تم تھوڑا آرام کرو خدا خیر کرے گا۔ صباء کی طبعیت اچھی ہوگی تو میں اُس سے خود پوچھ لوں گی۔



اُدھر صباء کے والدین صباء کو گھر لے گئے کمرے میں اُسے بستر پر لٹا یاگیا۔
باپ: صبا ء بیٹی! کیسی ہو؟
صباء کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا بلکہ وہ اب صرف آنکھوں سے اشارہ کرسکتی تھی۔
ماں: بیٹی کچھ تو کہو۔
مگر صباء کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا صباء کا سارا بدن درد کر رہا تھا وہ درد کی وجہ سے آہ بھررہی تھی۔
والدین دوسرے دن صباء کو ہسپتال لے گئے۔
ڈاکٹر صباء کا چیک اپ شروع کیا۔ ڈاکڑ نے جب صباء کی قمیص کو تھوڑااوپراُٹھایاتو صباء کے جسم پر ڈنڈے کے بہت سے نشان تھے۔ڈاکٹر جلدی سے صباء کی قمیص کو چھوڑتے ہوئے کہا
ڈاکٹر: لیبارٹری میں مریض کا خون اورپیشاب ٹیسٹ کیا جائے۔ تھوڑ ی دیر کے بعد ٹیسٹ کا رزلٹ آیا تو پتہ چلا کہ صباء کو اتنا پیٹا گیا تھا کہ اس کے گردے خراب ہو گئے تھے
ماں : ڈاکٹر صاحب ہماری بیٹی کی طبیعت کیسی ہے ؟
ڈاکٹرراز کو چھپاتے ہوئے کہا
ڈاکٹر: صباء کے گردے فیل ہوچکے ہیں اُس کا علاج اب یہاں ممکن نہیں اُسے کوئٹہ لے جائیں وہاں شاید اُس کا علاج ہو۔
ماں: اے خدایا میری بیٹی کو کیا ہو گیا۔
دوسرے دن والدین صباء کو کوئٹہ ہسپتال لے گئے وہاں ڈاکٹروں نے پھر سے صباء کا چیک اپ شروع کیا۔ ایک ڈاکٹر نے جب صباء کی قمیص اوپرکی تو اُسے سارے راز کا پتا چل گیا۔
ماں: ڈاکٹر میری بیٹی کیسی ہے؟
ڈاکٹر: آپ کی بیٹی کو ڈنڈوں سے مارا پیٹا گیا ہے جس کی وجہ سے اُس کے گردے فیل ہو گئے ہیں پھر بھی بچنے کا امکان ہے۔ آپ کی بیٹی کو کس نے ماراہے اگر آپ چاہیں تو تفتیش کیلئے پولیس کوبھلا سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہم علاج کریں گے۔
باپ : نہیں ایسی کوئی بات نہیںیہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے آپ علاج جاری رکھیں ہم اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوشش کریں گے ۔
ڈاکٹر : جیسے آپ کی مرضی پھر صباء کو ہسپتال میں داخل کرو۔
باپ: اوکے۔
صباء کو ایک ہفتے کیلئے ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔



باپ صباء کے ماں سے مخاطب ہوکر۔
باپ: آپ کو پتہ ہے یہ معاملہ کیوں پیش آیا۔
ماں: ہاں مجھے پتہ ہے ایک دن نمیران میرے پاس آیا تھا اُس نے بتایا تھا کہ صباء پریشان ہے۔ اورمیں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ راز کیا ہے بعد میں میں اُن کے گھر گئی وہاں صباء سے پوچھا ۔ صباء نے کہا کہ وہ رشی کے پیار میں مبتلا ہے میں نے اُسے بہت منت سماجت کی کہ اب تمھاری شادی ہوچکی ہے۔ پیار کو بھول جاؤ مگر اُس نے انکار کردیا۔ شاید نمیران کو پتا چلا ہوگا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ایسی چیزوں کو برداشت نہیں کیا جاتا
باپ: آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا میں اُسے سمجھا دیتی۔
ماں: آپ نے اُس کی شادی زبردستی کروائی صباء تو اس شادی کیلئے راضی نہیں تھی اب اس کا انجام بھی دیکھ لو۔
اُدھر نمیران کے گھر والوں کو پتا چلا نمیران کی ماں نے نمیرن سے کہا۔
ماں: نمیران بیٹا صباء کو کوئٹہ ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے جاکر اُس کی صحت کے بارے میں پوچھ لینا۔
نمیران: نہیں ماں میں نہیں جاؤں گا میں صباء کی موت کا منتظر ہوں۔
ماں: بیٹا ایسی باتیں مت کرو آخر وہ تمھاری بیوی اور کزن بھی ہے۔
نمیران: ماں اگر تمھیں جاناہے تو جاؤ مگر میں نہیں جاؤں گا۔
ایک ہفتے کے بعد صباء کی طبعیت تھوڑی سی ٹھیک ہوگئی اور اُسے واپس گھر لائے۔
اُدھر رشی کو پتا چلاتو وہ جلدی سے صباء کے والدین کے گھر گیا صباء بستر پر لیٹی ہوئی تھی رشی کو دیکھ کر تھوڑی سی مسکرا کر خوش ہو گئی صباء نے رشی کو آنکھوں سے اشارہ کرکے نزدیک آنے کیلئے کہا۔رشی نے نزدیک آکر پوچھا
رشی: صباء کیسی ہو؟
صباء : میں ٹھیک ہوں میں تمھیں نہیں بھولی میں تمھیں ہروقت یاد کرتی رہتی ہوں کیونکہ اب اس زندگی میں تمھارے سوا میرا کوئی نہیں رہا۔
رشی ہلکی سی آواز میں۔
رشی: میں بھی تمھیں نہیں بھولا۔
اس وقت صباء کی ماں اور ساتھ میں دو عورتیں بھی بیٹھی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ باتیں نہیں کر سکے۔
صباء کی ماں رشی سے مخاطب ہو کر
ماں: رشی بیٹھ جاؤ چائے پیو۔
راشی: نہیں ماں ، میں نہیں بیٹھنا چاہتا بس صباء کو دیکھنے آیا تھا دیکھ لیا اب میں جارہا ہوں۔ رشی ایک طرف سے خوش ہوا کہ اُس کی ملاقات صباء سے ہوئی مگر دوسری طرف صباء کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگیا۔ صباء کی حالت اُس سے برداشت نہیں ہوئی۔




اُدھر نمیران کو پتا چلا کہ صباء کی طبیعت اب پہلے سے بہتر ہوئی ہے مگر وہ صباء کو زندہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ صباء کو موت کے گھاٹ اُتارنے کیلئے ترکیب سوچ رہاتھا۔ وہ بازار جاکر ایسڈ کی ایک بوتل خرید کر صباء کے والدین کے ہاں صباء کی خیروعافیت کے بہانے گیا۔ صباء کی ماں نے اپنے داماد کو خوش آمدید کہا۔ مگر صباء نے اُ س کی طرف توجہ ہی نہیں دی۔ نمیران نے صباء کی ماں سے مخاطب ہو کر کہا
نمیران: صباء کی طبیعت کیسی ہے؟
ماں: اچھی ہے بیٹا! خدا کا شکر ہے اب پہلے سے بہت اچھی ہے۔ ڈاکٹروں نے بروقت علاج کرکے میرے اوپر بڑا احسان کیا ہے۔
نمیران: ہاں ماں اچھا ہوا صباء کی طبیعت ٹھیک ہوگئی میرے گھر والے سارے صباء کی خاطر پریشان تھے۔
ماں: بیٹا تم صباء کے پاس بیٹھ جاؤ میں تمھارے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں۔
نمیران: ٹھیک ہے ماں۔
ماں جب چائے تیار کرنے کے لئے گئی تو نمیران نے صباء کی دوائیوں کو چیک کرنا شروع کردیا صباء نمیران کی طرف بالکل توجہ ہی نہیں دے رہی تھی اور نمیران چھپکے سے دوائی کی ایک بوتل میں تھوڑی سی ایسڈ ملا کر واپس اپنی جگے پربیٹھ گیا۔
ماں چائے تیار کرکیاور ساتھ میں بسکٹ بھی اُٹھا کر لایا نمیران کیلئے چائے ڈالا نمیران نے چائے پی کر جانے کیلئے اجازت مانگا۔
ماں: بیٹا رکھو! کھانا کھا کر پھر چلے جانا۔
نمیران: تھینکس ماں! مجھے تھوڑا بہت کام ہے اس لیئے جلد ی میں ہوں اگر کوئی کام ہو تو مجھے ضرور اطلاع دینا ۔
نمیران اجازت لینے کے بعد گاڑی میں سوار ہوکر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ نمیران جب اپنے گھر پہنچا تو اُس کی ماں نے پوچھا۔
ماں: بیٹا ! صباء کیسی تھی؟
نمیران: اچھی تھی بہت جلد میں اُسے گھر لے آؤں گا۔
ماں: خدا کرے بیٹا صباء ٹھیک ہوجائے آئندہ ایسی غلطی نہیں کرنا۔
نمیران : ٹھیک ہے ماں ! آپ جو کہیں گے میں ویسا کروں گا۔
اُدھر رات کو صباء کی دوائی کھانے کاوقت آیا تو ماں نے جلدی جلدی سے صباء کو دوائی پلایا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایسڈ نے اپنا کام کردیا اور صباء کی طبیعت پھر سے خراب ہوگئی۔ ماں پریشان ہوگئی۔ یہ اچانک صباء کی طبیعت کیوں بگڑ گئی۔ مجبوراً واپس اُسے کوئٹہ ہسپتال لے جایا گیا ڈاکٹر نے جب صباء کا چیک اَ پ شروع کروایا تو فوراََ صباء کے خون اور یورین کا ٹیسٹ کروانے کو کہا۔
جب رزلٹ آیا توٹیسٹ سے پتہ چلا کہ صباء کے دونوں گردوں نے جو تھوڑا بہت کام کیا تھا۔ ایسڈ کھانے کی وجہ سے فیل ہوچکے تھے مگر ڈاکٹر نے اس بات کو راز میں رکھ کر کہا۔
ڈاکٹر: صباء کے دونوں گردے فیل ہو چکے ہیں اس لیئے اُسے ہسپتال میں داخل کیا جائے
ماں: ڈاکٹر صاحب میری بچی کوکچھ تونہیں ہوا؟
ڈاکٹر : ہاں! کچھ دنوں میں ٹھیک ہوجائے گی۔
صباء کو توہسپتال میں رکھا گیا مگرصباء کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی اُدھر رشی کو پتہ چلا تو وہ صباء کی عیادت کرنے ہسپتال آیا صباء اُسے دیکھ کر خوش ہوئی مگر اُس سے بات نہیں کرسکتا تھا صرف آنکھوں سے اشارہ کرتاتھا۔ صباء کہہ رہی تھی
صباء: دیکھ رشی میں نے تمھیں نہیں بھولی اب بھی میں تمھارا پیار ہوں میں تو اب اس دُنیا کو چھوڑکر جارہی ہوں مگر اپنے پیار کے ساتھ دھوکا نہیں کیا۔
صباء کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ رہے تھے رشی صباء کی اس حالت کو برداشت نہیں کرسکا او وہ واپس وارڈ سے نکل گیا اب رشی ہر دن ہسپتال کا ایک چکر لگا لیتاتھا مگر صباء کی طبیعت دن بدن خراب ہوتی جارہی تھی۔
اب صباء کے گھر والوں کو بھی معلوم ہو گیا تھاکہ صباء رشی سے پیار کیا تھا اور نمیران کو ان کے پیار کے بارے میں علم ہوا تھا جس کی وجہ سے نمیران نے اُسے مارا تھا صباء کے گھر والے بھی خوش تھے کہ نمیران نے صباء کو مار کر بہت اچھا کام کیا ہے کیونکہ وہ لوگ بھی نہیں چاہتے تھے کہ صباء اپنی شوہر کے علاوہ کسی دوسرے لڑکے سے پیار کرے اس لیے انھوں نے صباء کی زندگی بچانے کیلئے کوئی اچھی خاصی جدوجہد نہیں کی صرف صباء کی ماں نہیں چاہتی تھی کہ اُس کی بیٹی اس دُنیا کو چھوڑ کر جائے باقی سارے خوش تھے کہ صباء۔ ایک دن پہلے مرجائے تاکہ صباء اور رشی کی پیار کی کہانی ختم ہوجائے۔
رشی کا والد ڈاکٹر تھا رشی نے اپنے والد کو بتایا۔
رشی: اباجان! صباء کی طبیعت بہت خراب ہے آپ ڈاکٹروں سے رابطہ کریں تاکہ صباء کی زندگی کو بچایا جاسکے۔
باپ: ٹھیک ہے بیٹا! میں ڈاکٹروں سے رابطہ رکھوں گا اور انھیں کہوں گا کہ صباء کا خیال رکھیں اور اُس کا صحیح علاج کریں۔
ہسپتال میں ڈاکٹررشی کے والد صاحب کے دوست تھے اُس نے ڈاکٹروں سے رابطہ کرکے صباء کے بارے میں پوچھا
باپ: ڈاکٹر صاحب صباء کی حالت کیسی ہے؟
پہلی بار ڈاکٹر نے رشی کے والد کو ایک ڈاکٹرکی حیثیت سے بتا یا
ڈاکٹر: صباء کے دونوں گردے فیل ہوچکے ہیں اور اُس کا بچنا بہت مشکل ہے




مگر اُسے یہ نہیں بتاتا کہ کس وجہ سے اس کے گردے فیل ہوچکے تھے ۔ والد صاحب جب واپس گھر لوٹا تو رشی نے اُس سے پوچھا۔
رشی : اباجان! کیا بتایا ڈاکٹروں نے ؟
باپ: کچھ نہیں!
رشی : آپ کا کیا مطلب؟
باپ : صباء کے دونوں گردے فیل ہو چکے ہیں میں نے ڈاکٹروں کو بتا یا ہے اب وہ صباء کا علاج اچھی طرح سے کریں گے۔
راشی: تھینکس ابّاجان!
صباء کچھ دن ہسپتال میں پڑی رہی مگر اُس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی۔ ہر ایک آدمی اپنے طریقے سے صباء کے ماں کو مشورہ دے رہے تھے کسی ایک نے کہا کہ ہسپتال میں تمھاری بیٹی کا صحیح علاج نہیں ہورہا۔ آپ اُسے ہسپتال سے نکال کر اپنے رسم ورواج کے مطابق جڑی بوٹیوں سے علاج کروائیں اور یہاں نزدیک ایک بزرگ مولوی صاحب بھی ہے۔ جو تعویز کے ذریے علاج کرتاہے۔
صباء کی ماں لوگوں کے مشورے سنتی رہی آخر کار مجبوری کی حالت میں ہسپتال سے تنگ آکر صباء کو گھر لے آئی اردگرد کے عورتوں کو پتہ چلا کہ صباء کو واپس گھر لایا گیا ہے تو خیریت پوچھنے کیلئے جمع ہونا شروع ہوگئے اور اُن کے رشتہ دار بھی آنے لگے ہر عورت کے ساتھ ایک مشورہ ضرور ہوتا تھا صباء کی ماں نے عورتوں کے مشورے کے مطابق صباء کا علاج جڑی بوٹیوں سے کرنا شروع کیا اور ساتھ ساتھ اُسے ایک بزرگ بزرگ کے پاس لے گئے جو تعویزوں سے علاج کرتا تھا۔ ۔
بزرگ صباء کی ماں سے مخاطب ہوکر پوچھا۔
بزرگ:کتنے وقت سے آپ کی بیٹی بیمار ہے؟
ماں: تقریباََ تین مہنے سے۔
بزرگ : لوگوں کے ساتھ آپ کی کوئی دشمنی ہے؟
ماں: نہیں۔
بزرگ : آپ لو گ کسی کے قرض دار ہیں؟
ماں: نہیں تو۔
بزرگ : صباء خواب میں ڈرتی ہے؟
ماں: نہیں
بزرگ : صباء اور اُس کے شوہر کے درمیان تعلقات اچھے ہیں؟
ماں: ہاں وہ تو بہت اچھے میاں بیوی ہیں۔
بزرگ : صباء اپنی سسر یا ساس سے جھگڑا نہیں کرتی تھی؟
ماں: نہیں صباء ایسی لڑکی نہیں ہے۔
بزرگ : صباء جن بھوتوں کے بارے میں باتیں کرتی ہیں؟
ماں: نہیں۔
بزرگ : سوتے وقت صباء کو بُرے خواب نظر آتے ہیں؟
ماں: صباء نے مجھ سے بالکل بات ہی نہیں کی کہ وہ بُرے خواب دیکھتی ہے یا نہیں۔
بزرگ : شادی سے پہلے صباء کیلئے کتنے گھروں سے رشتے آئے؟
ماں: ہاں بہت سے گھرانوں سے۔
بزرگ : شادی سے پہلے صباء نے کسی دوسرے لڑکے سے محبت کی تھی؟
ماں: مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔
بزرگ : صباء کی سہیلیاں کس قسم کی لڑکیاں ہیں؟
ماں: میں اُن کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ویسے تو بُری نہیں لگتی تھیں۔
بزرگ صاحب اُٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد دو بڑی بڑی کتاب ہاتھ میں لیئے واپس آیا۔ ایک کتاب کو زمین پر رکھ کر دوسری کتاب کو کھول کر کچھ پڑھنے لگا بعد میں ایک سفید کاغذ نکال کر اُس میں کچھ لکھنا شروع کردیا لکھنے کے بعد اس کاغذ کو لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا بعد میں ایک دوسرے کاغذ پر لکھنا شروع کیا اس طرح پانچ کاغذ لکھ کر انھیں لپیٹ لیابعد میں صباء کی ماں سے مخاطب ہو کر کہا
بزرگ : یہ پانچ تعویز میں نے لکھے ہیں
ایک تعویز دروازے پر ٹانگ دینا جو جن بھوتوں کو دروازے سے اندر داخل نہیں ہونے دیگا۔
دوسرا صباء کی بائیں ہاتھ پر باندھ لینا
تیسرا سرانے کے نیچے رکھ لینا
چوتھا باہر گیٹ کے دروازے کیاُوپر باندھ لینا۔
پانچواں تعویز ایک گلاس پانی کے اندر ڈال کر اور کاغذ کو دھو کر پانی صباء کو پلانا۔
تعویز ہم دیتے ہیں شفا خُدا دے گا
آپ کی بیٹی کچھ دنوں میں ٹھیک ہوجائے گی۔
صباء کی ماں تعویزوں کو اُٹھا کر دوسرے عورتوں سے پوچھنے لگی۔
ماں: بزرگ کو ان تعویذوں کے کتنے پیسے دے دوں۔
کسی نے کہا سو روپے دے دو ۔کسی نے کہا پچاس کسی نے پانچ سو روپے کسی نے ہزار ۔ آخر کار صباء کی ماں نے دوسوروپے نکال کربزرگ کو دیئے۔
بزرگ صاحب دوسو روپے جیب میں ڈال کر سوچنے لگا کہ پانچ تعویذ کے صرف دو سو روپے پھر کہا
بزرگ: اگر ان تعویذوں سے آپ کی بیٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی تو پھر ڈاکٹروں سے رجوع کریں۔



صباء کی والدہ بزرگ کو خدا حافظ کہہ کر واپس روانہ ہوگئی گھر پہنچتے ہی ایک تعویز صباء کے گردن میں ڈال دی ایک بائیں ہاتھ پر باندھ دیا ایک سرانے پر رکھ دیا ایک دروازے کے اوپر ٹانگ دیااور ایک پانی میں ڈال کر صباء کو پلانا چاہا مگر صباء کھانے پینے کی حالت میں نہیں تھی پھر بھی ماں نے منت سماجت کر کے اُسے زبردستی پانی پلایا دیا۔ ماں سمجھ رہی تھی کہ اب صباء کی طبیعت جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی۔ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی صباء کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی بلکہ صباء کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہو گئی اُس کا سفید ساچہرہ کالا پڑ گیا تھا وہ گوشت پوست کا ایک ڈھانچہ سا رہ گئی تھی۔ وہ بہت پتلی ہوچکی تھی۔ اب صباء کی ماں کو یقین وہ چکا تھا کہ اُس کی بیٹی کچھ دنوں کی مہمان ہے صباء کی والدہ نے اُس کے والد صاحب کو بہت منت سماجت کیا کہ جیسے بھی ہو میری بچی کو ایک بار کراچی ہسپتال لے جائیں شاید میری بچی کی جان بچ جائے مگر صباء کے والد صاحب نے انکار کردیا ۔تو ماں نے روتے ہوئے کہا۔
ماں: اگرتم میری بچی کو کراچی ہسپتال نہیں لے جانا چاہتے تو میں خود صباء کو لے جاؤں گی۔
صباء کے والد نے کچھ سوچنے کے بعد کہا
باپ: اوکے ! کراچی جانے کی تیاری کروکل صباء کو کراچی لے جاناہے
اب صباء تو اُٹھنے کے قابل نہ رہی۔ دو آدمیوں نے اُسے اُٹھا کر گاڑی میں بٹھا لیا صباء کا وزن آدھا ہو گیا تھا صباء کو کراچی ہسپتال لے جانے کے بعد ڈاکٹروں نے پہلے صباء کی حالت دیکھی اور پھر اُن سے پرانے ٹیسٹوں کے بارے میں پوچھا
صباء کی ماں نے پرانے ٹیسٹ ڈاکٹر کو دکھائے۔ ڈاکٹرصاحب نے جب ٹیسٹوں کوایک نظر دیکھا تو پریشان ہوگیا اور چپ ہوگیا۔
ماں: ڈاکٹرصاحب خیر ہے آپ بات ہی نہیں کر رہے۔
ڈاکٹر : ماں! بہت دیر ہوچکی ہے آپ بہت لیٹ صباء کو ہسپتال لائے ہیں۔
ماں: آپ کا کیا مطلب؟
ڈاکٹرصاحب: مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کو پتہ تھا کہ صباء کے دونوں گردے فیل ہوچکے ہیں۔ مگرآپ لوگوں نے اُس پر کوئی توجہ نہیں دی اب صباء کا جسم صرف ایک ڈھانچہ بن چکاہے۔ اُس سے زندہ رہنے کی کیا اُمید وابستہ کر بیٹھے ہو۔ Sorry ماں! صباء دو دنوں کی مہمان ہے اُسے واپس گھر لے جائیں۔
ماں ڈاکٹر کی باتیں سن کر لال پیلا ہوگئی۔
ماں: کیا اب صباء کا علاج نا ممکن ہے؟
ڈاکٹر: معاف کیجئے ! علاج کا بھی ایک وقت ہوتاہے ہر مرض کا علاج وقت پر نہیں کیا گیاتو وہ لا علاج بن جاتاہے صباء کا سارا جسمانی نظام فیل ہوچکا ہے۔
ماں: خدا کے واسطے ڈاکٹر صاحب کچھ کرلیجئے میری بیٹی کو بچا لیجئے۔
ڈاکٹر: بہت دیر ہوچکی ہے۔
ڈاکٹر صاحب کمرے سے نکل جاتاہے۔
ماں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔
’’اب پچھتائے کیا ہوت۔ جب چڑیاں چگ گئی کھیت‘‘
ماں صباء کا ہاتھ پکڑ کراُس کی طرف دیکھنے لگی صباء کا سارا بدن ایک ڈھانچہ بن چکا تھا صرف اُس کے آنکھیں تھوڑی سی کھلی تھیں مگر اُس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھیں وہ خوش تھی اور وہ سمجھ چکی تھی کہ اب اُس معاشرے میں رہنا فضول ہے اُ س کو ایک شعر یاد آیا۔
’’ ہم وفا کرکے بھی تنہا رہ گئے۔
دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے‘‘
اُس کی آنکھوں میں آنسو آئے۔ آخری وقت وہ رشی کو دیکھنا چاہتی تھی مگر رشی یہاں موجود نہیں تھا۔
صباء کی آنکھیں آہستہ آہستہ بندہوتی گئیں اور اُس نے ہمیشہ کے لیئے اس دُنیا کو خداحافظ کہہ دیا۔
اس طرح صباء کو اس کے پیار کا صلہ مل گیا۔کریں۔



ماں صباء کو باہنوں میں لے کر رونے لگی۔ میری بیٹی مجھے چھوڑ کر مت جانا۔ سارا گناہ گار میں ہوں کہ میں نے تمھارے دل کے ارمان پورے نہیں کیئے بیٹی مجھے معاف کردو کیونکہ میں بھی اس معاشرے کے سامنے بے بس تھی۔ بیٹی مجھے معاف کردو میں تمھارے لیئے کچھ بھی نہ کرسکی۔ /
ماں روتے ہوئے صباء کے والد سے مخاطب ہوکر کہنے لگی
ماں: اب تم خوش ہوگئے جاؤ خوشی مناؤ اپنے ہاتھوں کو مہندی لگاؤ۔ صباء ہمیں ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر چلی گئی۔ اب تمھارا معاشرہ تمھارے گلے میں ہار پہنائے گا۔ صباء کا والد صاحب لال پیلا ہوگیا۔ کمرے سے نکل کر باہر ایک جگے پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا۔
’’ اے خدا! مجھے معاف کردو میں نے معاشرے کے رسم ورواج کے سامنے بے بس ہو کر اپنی بیٹی کا قتل کردیا‘‘
اب صباء کے والد صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوچکا تھا مگر اب کیا کیا جاسکتا تھا صباء تو اس دُنیا کو چھوڑ کر چلی گئی تھی۔
صباء کی میّت کی واپسی کی تیاری شروع ہوگئی گھر فون کرکے اطلاع دی گئی کہ صباء اس دُنیا سے رخصت ہوچکی ہے اُس کی تجہیز و تکفین کی تیاری کرو۔ صباء کے رشتہ دار جمع ہو گئے۔ مردوں اور عورتوں کیلئے الگ الگ گھروں میں ٹینٹ لگائے مولوی صاحب کو اطلاع دی گئی۔
دوسرے دن صباء کو گھر پہنچادیا گیا۔ صباء کے سہیلیاں اور رشتہ دار جمع ہوئے عورتوں نے رسم ورواج کے مطابق روتے ہوئے چیخ وپکار شروع کیا۔
نمیرن بہت خوش تھا کہ اُس کا مقصد پورا ہوگیا۔ صباء کے بھائی بھی خوش تھے۔ اُدھر رشی کو جب پتہ چل گیا۔ تو وہ بہت پریشان ہوگیا کیونکہ اُس نے اپنا پیار ہمیشہ کیلئے کھو دیا تھا۔ وہ اپنا سردیوار سے ٹکرانے لگا اُسکی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ رشی کے والد صاحب نے رشی کو بائیوں میں لے کر ایک جگہ بٹھایا اور اُسے تسلی دی۔ اور کہا
والد: چلو بیٹا اپنے پیار کا آخری دیدار کرو۔
رشی: نہیں میں اُس گھرمیں جانا نہیں چاہتا۔
والد: تم ٹھیک کہتے ہو مگر تمھارے لیے اُس کی آخری دیدار لازمی
ہے۔
رشی: باپ میں برداشت نہیں کرپاؤں گا۔
والد: بیٹا برداشت کرنا پڑے گا تم ایسے معاشرے میں پیدا ہوئے ہو یہاں بہت سی چیزوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے چلو جلدی کرو چل کر دیکھ لو بعد میں دیر ہوجائے گی۔
رشی: ٹھیک ہے ابّا جان! چلو۔
رشی اپنے والد صاحب کے ہمراہ صباء کے گھر گئے۔ صباء کی ماں رشی کو دیکھ کر ایک آہ بھرتی ہوئی رونے لگی رشی جب صباء کے قریب گیا اور کھڑا ہوکر سوچنے لگاایک عورت نے صباء کے چہرے سے دوپٹہ اُٹھایا تو صباء کا سفید سا چہرہ کالا کالا ہوچکا تھا اور جسم خشک ہوکر بہت پتلا ہوچکا تھا۔ اُس کی ہڈیاں گوشت اندر سے دکھائی دے رہے تھیں مگر اُس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی۔ رشی اُسے اس حالت میں دیکھ کر برداشت نہیں کرسکا اور کمرے سے واپس باہر نکل گیا۔ صباء کو ایک کفن (سفید کپڑا) میں لپیٹ کر چار پائی پر رکھ دیا گیا اور ایک کمبل اُس کے اوپر بچا دیا گیا۔ چار آدمی چارپائی کو کندھوں پر رکھ کر نماز جنازہ کی جگہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ باقی لوگ پیچھے پیچھے ہوچلے ۔ نماز جنازہ پڑھنے کے بعد اُسے قبرستان میں دفن کرکے مولوی صاحب نے صباء کی مغفرت کیلئے دُعا شروع کی سارے لوگوں نے مولوی صاحب کا ساتھ دے کر دُعا میں شامل ہوئے اور آمین آمین پڑھتے رہے۔ دُعا ختم ہونے کے بعد لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے۔



کچھ دنوں کے بعد رشی کاوالد کوئٹہ گیااور اُس ہسپتال میں اُسے کچھ کام پڑا جہاں صباء زیر علاج تھی والد صاحب اُس ڈاکٹر سے ملا جس نے صباء کا علاج کیاتھا۔
ڈاکٹر: آپ کا مریض کیساہے؟
والد: وہ اس دُنیا کو چھوڑ کر چلی گئی۔
ڈاکٹر: خُدا اسے جنت نصیب کرے ۔ دیکھئے دوست میں آپ کے سامنے اعتراف کرنا چاہتاہوں۔ کہ جس وقت صباء کے یورین کا ٹیسٹ کیاگیاتھا تو اُس ٹیسٹ کے مطابق صباء کے گردے ایسڈ پلانے سے فیل ہوچکے تھے۔
والد: یہ آپ کیا کہہ رہے ہو؟
ڈاکٹر: ہاں! میں صحیح کہہ رہا ہوں۔
والد: اُس وقت تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟
ڈاکٹر: دیکھے آپ میرے دوست ہیں اس لیے میں نے تمھیں بتایا۔ ورنہ ہم لوگ سکریٹ کسی سے نہیں کہتے
والد: میں انھیں معاف نہیں کروں گا یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں۔ دوسرے دن رشی کے والدصاحب گاڑی میں سوار ہوکر واپس گھر آیا۔ شام کے وقت گھر میں رشی، والد ،ماں اور دادا بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے ہیں تو والدنے کہا
والد: میں ہسپتال گیا تھا ڈاکٹر نے مجھے بتایا تھا کہ صباء کو ایسڈ پلایا گیا تھا جس کی وجہ سے اُس کے دونوں گردے فیل ہوگئے تھے اب میں انھیں معاف نہیں کروں گا یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں انھیں میں انصاف کے کٹھہر ے میں میں لاکھڑا کروں گا۔
دادا جی: واہ کیا بات ہے بیٹا! تمیں ان لوگوں کو انصاف کے کٹھہرے میں لانے سے کیا فائدہ ملے گا؟
والد: یہ انسانیت کے دشمن ہیں انھوں نے صباء جیسی بچی کا خون کیا ہے۔
داداجی: جس وقت صباء زندہ تھی وہ تمھارے گھر آئی تھی اور تمھارے گھر سے زندگی اور پیار کا بھیک مانگ رہی تھی اور وہ کہتی تھی کہ وہ رشی کے بناء زندہ نہیں رہے گی اُس کی مدد کیجئے اُسے اس کا پیار دلا دے ۔ اُس وقت تم نے کیاکیا۔ اُس کی مدد کرنے کے بجائے اُسے واپس اُس کے والدین کے گھر روانہ کیا۔ جس وقت وہ بیمار تھی تم نے اُسے بچانے کیلئے کتنے دلچسپی لی۔ اُس ڈاکٹر نے تمھیں اُس وقت کیوں نہیں بتایا کہ صباء کے گردے ایسڈ پلانے کی وجہ سے فیل ہوچکے ہیں۔ اب جبکہ صباء اس معاشرے سے مایوس ہوکر دُنیا کو چھوڑ کر چلی گئی اب تمھیں انسانیت نظر آرہی ہے۔ آرام سے بیٹھ جائیے اب صباء اس دُنیا میں نہیں ہے اور نہ اُسے تمھارے انصاف کی ضرورت ہے۔
والد: مگر انھوں نے ایک انسان کا خون بے دردی سے کیاہے یہ انسانیت کے خلاف ہے۔
داداجی: بس جو ہونا تھا ہوا۔ اب صباء اس دُنیا میں نہیں رہی اپنے لیئے ایک دشمنی موڑ لینے کی کیا ضرورت ۔ تم جانتے ہو ہمارے معاشرے میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بڑاچڑھا کر پیش کیا جاتاہے
کیا ہمارے ہاں ایسا عدالتی نظام موجود ہے کہ وہ یہ سُراغ لگانے میں کامیاب ہوجائے کہ صباء کو ایسڈ کس نے پلایا تھا؟
یہ قصہ صرف لمبا ہوتا جائے گا بس اور کچھ نہیں ۔ تمھارا وقت بھی ضائع ہوجائے گا اور پیسے بھی اور نہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوکر ایسڈ پلانے والے کو انصاف کے کٹہرے تک لاسکو گے۔
والد: ٹھیک ہے اباجان!
جو آپ کہیں گے میں اُسی طرح کروں گا۔
اسی طرح صباء کو اُس کے پیار کرنے کا صلہ مل جاتاہے۔اور اس کے قصے کا باب ہمیشہ کے لئے بند ہوجاتاہے۔۔۔۔۔





Written by Shaikof